خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 714 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 714

خطبات ناصر جلد دوم ۷۱۴ خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء بڑوں کو بھی اتنی زندگی عطا ہو ) انہیں یہ نظارہ نظر آ جائے گا کہ وہ قو میں تباہ ہو گئیں جو ساری دنیا کو اپنا غلام بنانے لگی تھیں۔اسلام نے کہا کہ غلام صرف ایک کا بننا ہے کسی غیر کی غلامی نہیں ہے۔اسلام کا اقتصادی نظام غیر کی غلامی سے چھڑوانے والا ہے اور خدائے واحد و یگانہ کی غلامی جو نہایت اچھی غلامی ہے اور خوشحال غلامی ہے اور مسرتوں اور خوشیوں سے لبریز غلامی ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس غلامی کی زندگی، اس اطاعت کی زندگی میں باندھ دیا ہے۔اگر وہ سمجھے اور عقل سے کام لے۔غرض اسلام کے اقتصادی نظام کی بنیاد ان چار صفات پر ہے اور سارا اقتصادی نظام اس پر چل رہا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے صرف اسلام ہی نے فرد اور خاندان اور قوم کی ضرورت کی تعیین اور تعریف کی ہے اور اس کو محدود کیا ہے اور اس سے زائد کے جو مطالبے ہیں اسلام ان کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔ایک شخص جس کو میٹرک تک پڑھنے کا ذہن دیا ہے اگر صحیح اسلامی حکومت ہو تو اگر چہ وہ امیر گھرانہ ہی میں کیوں نہ پیدا ہوا ہوا سے میٹرک کے بعد گیارھویں میں داخلہ نہ ملے گا اس کا دماغ ہی نہیں ہے یہ نظام سارے کا سارا منصوبہ بندی پر قائم ہے اور اس کے بغیر چل نہیں سکتا اور بڑا تفصیلی جائزہ لینا پڑے گا۔پہلے تو اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے تھے کہ اپنی طاقت اور حالات کے مطابق جائزہ لے لیتے تھے وہ کافی تھا اب دنیا کے حالات بدل گئے۔جب بھی یہ اقتصادی نظام قائم ہوا اس کی بنیاد بہت زیادہ Statistics پر ہوگی۔تب ساری ضرورتوں کی تعیین ہوگی۔ہر بچے کے ٹیسٹ ہوں گے کہ کہاں تک اس کا دماغ ترقی کر سکتا ہے اور کن کن Lines پر یہ چل سکتا ہے پھر ان Lines پر ان کو چلایا جائے گا۔جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قانون چل رہا ہے کہ ایک چنگا بھلا انسان ۴۰، ۴۵ سال کی عمر میں بعض دفعہ وفات پا جاتا ہے۔بعض بچے صحت مند ہوتے ہوئے چھوٹی عمر میں مرجاتے ہیں یہ اس کا اور قانون چل رہا ہے غرض اس قسم کے بھی ذہین بچے ہونگے جو اپنی ذہانت کو کمال تک نہیں پہنچا سکیں گے۔لیکن وہ بچہ جس کو اللہ تعالیٰ زندگی دے گا اس کو اسلام کا اقتصادی نظام اللہ تعالیٰ کے فضل سے توفیق بھی دے گا کہ وہ اپنی ذہنی قوتوں کو اجاگر کرتا چلا جائے اور ان کی نشوونما اس کے کمال تک پہنچ جائے اور اسلام نے ہر شخص اور ہر خاندان کی ضرورت کی تعریف یہ کی ہے کہ میں رب العلمین ہونے کی حیثیت میں جو قو تیں