خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 706 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 706

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں باقی اور صفات بھی اس کے ساتھ لگی ہوئی ہیں مگر یہ چار صفات جو امہات الصفات کہلاتی ہیں اقتصادی نظام میں بھی یہی صفات بنیادی حیثیت کی حامل ہیں یعنی اس میں صرف فروعی صفات جلوہ گر نہیں بلکہ اُمہات الصفات بھی وہاں جلوہ گر ہیں باقی صفات باری تعالیٰ جن کا انسان سے تعلق ہے وہ ان کے ساتھ مختلف رشتوں سے منسلک ہو کر جلوہ دکھاتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنی پہلی صفت بیان کی کہ میں رَبُّ الْعَلَمِينَ ہوں اور ہمیں حکم دیا کہ ظلی طور پر تمہیں بھی رب العلمین بنا پڑے گا اگر تم وہ اقتصادی نظام قائم کرنا چاہتے ہو جو میں قائم کرنا چاہتا ہوں۔رب کی صفت ہمیں بتاتی ہے کہ کوئی شخص اچھا ہو یا بُرا اس کے ارتقا اور اس کی نشوونما کے لئے جن چیزوں کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے ان سے اسے محروم نہیں کیا ابو جہل کو بھی دیا اور اس جیسے دوسروں کو بھی دیا ہر ایک کو دیا وہ جو اللہ تعالیٰ کو گالیاں نکال رہے ہیں ان کو بھی دیا ( اس عطا کا وہ بہت جگہ غلط استعمال کرتے ہیں ) لیکن اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا کر دیئے ہیں وہ یہ نہیں دیکھتا کہ یہ مجھے بُرا بھلا کہنے والے ہیں میرا انکار کرنے والے ہیں اور جو تو حید پر قائم ہیں ان کو ہر قسم کا دکھ پہنچانے والے اور ایذا دینے والے ہیں وہ ان باتوں کا خیال نہیں رکھتا ربوبیت عالمین کی صفت برابر جلوہ گر ہو رہی ہے پھر اس ربوبیت کے ساتھ رحمانیت کا تعلق ہے، کیونکہ قوتوں اور استعدادوں کی نشو ونما میں ایک وقت انسان پر ایسا بھی آتا ہے کہ بغیر کسی عمل کے احسانا اگرا سے کوئی چیز نہ ملے تو اس کی نشو و نما نہیں ہو سکتی موٹی مثال تو بچے کی ہے بچہ پیدا ہوا تو اس نے کیا عمل کیا کون ساحق اس نے اپنے عمل سے قائم کر لیا تھا کہ اس کو ماں کا دودھ ملے کوئی بھی نہیں بچہ پیدا ہوا ہے پہلی چیخ ماری ہے اس کی ماں کو اللہ تعالیٰ دودھ دے دیتا ہے کہ لے اس کو پلا یہ رحمانیت کا جلوہ ہے۔پس اسلام کے اقتصادی نظام میں ہر اس شخص کی ضرورت کا خیال رکھا گیا ہے کہ جس کی عملی زندگی ابھی شروع ہی نہیں ہوئی کہ اس کو اُجرت ملنے کا سوال پیدا ہوا جرت ملنے کا ابھی سوال پیدا نہیں ہوا۔ابھی اس نے کوئی کام ہی نہیں کیا مثلاً ایک ذہین طالب علم ہے اقتصادی نظام میں اس کی پڑھائی کا