خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 703
خطبات ناصر جلد دوم ۷۰۳ خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء اس توحید علمی سے جو حقوق العباد سے تعلق رکھتی ہے عظمت ایک ہی ذات کی ثابت ہوتی ہے وَعَزَّ اسْمُهُ وَجَلَّ شَانُهُ اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ صرف وہی ہے جو اپنی ذات میں کامل ہے کیونکہ دوسرے کامل نہیں اس لئے کہ ان کے بعض حقوق انہیں کوئی دوسرا دے رہا ہے اگر وہ کامل ہوتے تو وہ اپنا ہر ایک حق خود لے رہے ہوتے لیکن یہاں تو یہ نظر آتا ہے کہ کوئی شخص بھی ایسا نہیں کہ جو یہ کہے کہ میں اپنا حق اپنے زور سے لے رہا ہوں اس کو تو ایک عام جواب ہمارا بچہ بھی یہ دے گا کہ کیا تم نے اپنی ماں کا دودھ اپنے زور سے حاصل کیا تھا؟ کوئی بھی شخص جس میں ذرا بھی عقل ہو یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اپنی ماں کا دودھ اپنے زور بازو سے حاصل کیا تھا وہ تو عاجز تھا اگر ماں اس کے حق کو تسلیم نہ کرتی تو اس کو یہ حق نہ ملتا بعض مائیں بعض نادان ڈاکٹروں کے مشورہ سے بچوں کو ان کے اس حق سے محروم کرتی رہی ہیں اب پھر ان کو عقل آ رہی ہے اور وہ سمجھنے لگی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ حق سے بچے کو محروم کر ناظلم ہے بچہ پر بھی اور اپنے نفس پر بھی اور اس طرح یہ ثابت کر دیا کہ بچے کو اس کا حق ماں کی مامتا نہیں دیتی بلکہ اللہ تعالیٰ کا رحم دے رہا ہے، اس کی ربوبیت دے رہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو اب کچھ عقل دے دی ہے اوراکثر ڈاکٹر پھر اس طرف آرہے ہیں کہ اگر ماں بچے کو دودھ نہ پلائے تو اس کی صحت پر بہت برا اثر پڑے گا کیونکہ قدرت نے ایسا نظام قائم کیا ہے کہ اگر ماں بچے کو دودھ پلائے تو وہ بہت ساری بیماریوں سے بچ جاتی ہے۔پس توحید علمی سے انسان یہ معرفت حاصل کرتا ہے کہ عظمت ایک ہی ذات کی ہے اور ہر دوسرا انسان میرے جیسا عاجز انسان اور بے مایہ انسان اور ہر قسم کی قوت اور اہلیت سے خالی انسان ہے جس کو جتنی بھی طاقت ملی ہے وہ اس خدائے عظیم اور رب رحمن کی طرف سے ملی ہے جس نے ان تمام جہانوں کو پیدا کیا ہے۔توحید عملی حقوق العباد سے تعلق رکھنے والی یہ ہے کہ حقیقی نیکی بجالا نا یعنی دوسروں سے جو تعلقات ہیں وہ اسی اصول پر قائم ہونے چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو حق قائم کیا ہے وہ ادا ہو پہلے یہ تھا کہ حق ادا ہونے چاہئیں ) اب یہ ہے کہ حق ادا ہوں صرف یہ نہ ہو کہ ہونے تو چاہئیں۔بہت سے لوگ کہہ دیا کرتے ہیں ( آپ کو بھی اپنی زندگی میں تجربہ ہوا ہو گا ) بہت سی مشکلات ہیں نا۔