خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 698
خطبات ناصر جلد دوم ۶۹۸ خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء ہے احکام میں تضاد پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی بات ماننی ہے باپ کی بات نہیں ماننی یا مثلاً یہ سوال ہو کہ اللہ تعالیٰ یہ کہتا ہے اور ایک شخص جس کا کسی فرد پر بڑا ہی احسان ہے وہ دنیوی محسن یہ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی بات ماننی ہے اس کی بات نہیں مانی۔کیونکہ سب سے بڑا محسن جو ہم اپنے ذہن میں اور تخیل میں لا سکتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے بیشک یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ مثلاً وہ ایک یتیم بچہ تھا اس محسن شخص نے اسے پالا اس کو ذہین پایا اور اس کی تعلیم پر خرچ کیا ، اس کی تربیت کا خیال رکھا، اس کو گندے ماحول سے بچایا، اس کی نیک ماحول میں پرورش کی۔ہر وقت نیکی کی باتیں ، ترقی کرنے کی باتیں اور ترقی کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کی باتیں اس کے دل میں ڈالیں۔پھر اگر وہ پاکستان کا رہنے والا ہے تو اس نے پوسٹ گریجوایٹ کے بعد اس کو انگلستان بھیجا پھر وہ مشہور سائنسدانوں سے بھی آگے نکل گیا۔یہ سارا خرچ اس شخص نے برداشت کیا پھر وہ واپس آیا اس شخص کی ایک ہی لڑکی تھی اس نے اپنی لڑکی سے اس کی شادی کر دی اس طرح اسے اپنی ساری جائیداد کا مالک بنادیا کتنا بڑا احسان اس محسن نے اس پر کیا لیکن اگر اس محسن کا قول یا حکم یا اس کی خواہش اور مرضی اللہ تعالیٰ کے حکم یا اللہ تعالیٰ کی مرضی اور رضا کے خلاف ہو تو توحید عملی یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس دنیوی محسن کی بات نہ مانی جائے۔اللہ تعالیٰ کی بات مانی جائے کیونکہ اس محسن کو جو کچھ بھی قدرت ملی، جو مال ملا، جو نیک نفسی ملی، جو دل کی پاکیزگی ملی ، جو ہمدردی ملی ، محبت اور اخوت کا جو جذ بہ ملا وہ سب خدا کی طرف سے ملا۔پس اصل فیض کا منبع یہ محسن نہیں ہے بلکہ وہ ذات ہے جس نے اس دنیوی محسن کو وہ سامان دیئے کہ جن سے وہ احسان کر سکتا تھا اور پھر اسے احسان کرنے کی توفیق دی۔اقتصادیات میں بھی یہ سوال پیدا ہو گا جس کا توحید عملی فی حقوق اللہ کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے کہ اقتصادی نظام کے قیام میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی بات ماننی ہے یا غیر اللہ کی بات بھی کبھی مان لینی ہے اسلام یہ کہتا ہے کہ اقتصادی نظام میں بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کی اطاعت نہیں کرنی کسی اور کی بات نہیں مانی۔مثلاً Hippes ہیں۔انگلستان میں ان کا بڑا زور ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں چرس اور دوسری قسم کے نشے مہیا ہونے چاہئیں اور ان کا وہاں بڑا اثر ورسوخ بھی ہے بڑے بڑے عہدے دار بھی ان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے ہیں اور آہستہ آہستہ ان