خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 679 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 679

خطبات ناصر جلد دوم ۶۷۹ خطبہ جمعہ ۱۳ / جون ۱۹۶۹ء تجوریوں کو بھرتا ہے۔اس قسم کے دل بہلاوے جو ہیں ان کے مطالبے اسلام کا اقتصادی نظام منظور نہیں کرے گا وہ ایسے مطالبے کو ر ڈ کر دے گا کیونکہ یہ بھی ایک اقتصادی سوال ہی ہے یعنی پیسے کے ساتھ اس کا تعلق ہے اس کے نتیجہ میں ذہنی ، اخلاقی اور روحانی گراوٹ پیدا ہوتی ہے اسی طرح عیاشی کے بہت سے مطالبات ہیں یورپین اقوام جب اپنی ذاتی دلچسپیوں کے لئے اور اپنے ملک کی خاطر لوٹ کھسوٹ کے لئے دوسرے ملکوں پر دھاوا بولتی اور وہاں فوجیں بھجواتی ہیں تو سپاہیوں کے ساتھ ایک فوج کنچنیوں کی بھی بھیجی جاتی ہے بہر حال یہ ان کا ایک مطالبہ ہے۔لیکن اسلام عیاشی کے اس قسم کے مطالبات کو منظور نہیں کرتا۔غرض ہر وہ مطالبہ جو جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی قوتوں میں خلل پیدا کرنے والا ہو گا اسلام کا اقتصادی نظام اسے رڈ کر دے گا۔تیسری خصوصیت ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے فَقَدَّرَةَ تَقْدِيرًا اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لئے ایک قوت پیدا کی ہے اور ایک دائرہ مقرر کر دیا ہے۔انسان اس سے باہر نہیں جا سکتا لیکن اگر کسی شخص کا یہ مطالبہ ہو کہ مجھے اتنے پیسے ملنے چاہئیں تا کہ میں یہ کروں وہ کروں آگے مثال اس کو واضح کرے گی ) اور وہ مطالبہ دائرہ استعداد سے آگے بڑھنے والا ہو تو اسلام کا اقتصادی نظام اسے رو کر دے گا مثلاً اگر کوئی طالب علم جو بالکل غیبی ہے اور جس کی قابلیت میٹرک سے آگے پڑھنے کی ہے ہی نہیں یہ مطالبہ کرے کہ میں غریب ماں باپ کا بیٹا ہوں میں آگے پڑھ نہیں سکتا مجھے وظیفہ دیا جائے تاکہ میں کالج میں پڑھوں تو چونکہ کالج میں پڑھنے کی طاقت اور قوت ذہنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے (نہیں) دی گئی اس لئے اس کا یہ مطالبہ رد کر دیا جائے گا کیونکہ اس کا یہ حق نہیں بنتا اس کے اندر اس کی قوت ہی نہیں۔اس کی قوت اور دائرہ استعداد اس کے حق کو معین کرتا اور اس کی حد بندی کرتا ہے یا ایک امیر کہے کہ میں نے اپنا کچھ روپیہ اپنے نا اہل بچہ کی تعلیم کے اوپر خرچ کرنا ہے تو صیح اسلامی اقتصادی نظام اس امیر کو بھی خرچ نہیں کرنے دے گا کیونکہ اس کے نتیجہ میں کسی اور کی حق تلفی ہوتی ہے۔دوسری مثال میں نے اس وقت جامعہ احمدیہ کی لی ہے میں سمجھتا ہوں کہ جامعہ احمدیہ میں داخلہ کے لئے ہر اس طالب علم کا حق ہے جو ذہنی ، اخلاقی ، جسمانی اور روحانی قوتوں کے لحاظ سے