خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 660 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 660

خطبات ناصر جلد دوم ۶۶۰ خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۶۹ء اللہ تعالیٰ نے انسان کے جو حقوق قائم کئے ہیں ان حقوق کو ادا کیا جائے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جائے غرض اس دنیوی زندگی، دنیوی حیات کا نظام اور اُخروی مسرتوں کا حصول اور اُخروی فلاح ہر دو کا مدار حق و انصاف اور خداشناسی پر ہے جب تک معرفت نہ ہو اور جب تک اس معرفت کے نتیجہ میں انصاف کو صحیح اصول پر قائم نہ کیا جائے اس وقت تک نہ اُخروی زندگی کی خوشیاں حاصل ہو سکتی ہیں اور نہ یہ دنیا جنت بن سکتی ہے۔یہاں بھی عذاب اور دکھ اور رنج اور تکلیف ہوگی اور وہاں بھی اللہ ہی حافظ ہے۔۔اس لئے انصاف اور خدا ترسی کو مضبوطی سے قائم کرنے کے لئے ایسا قانون چاہیے جو عدل و انصاف کی باریک راہیں بتلاتا ہو اور عرفان و معرفتِ الہی کے حقائق پوری صحت اور وضاحت سے بیان کرتا ہو۔ے۔اس قانون کا بنانے والا وہ ہونا چاہیے جو سہو و خطا اور ظلم و تعدی سے بالکل پاک ہو اور جو اپنی ذات میں صاحب عظمت اور صاحب عزت و احترام ہوتا کہ اس کی عظمت اور عزت کی وجہ سے ایک عقلمند انسان بڑی بشاشت سے اس قانون کو قبول کرے۔غرض یہ قانون ایسا ہونا چاہیے جو عدل کے تمام تقاضے، جو انصاف کے تمام تقاضے ، جو حقوق اللہ کی ادائیگی کے تمام تقاضے اور جو حقوق العباد کی ادائیگی کے تمام تقاضے پورے کرنے والا ہو اور پھر بنا بھی اس ہستی کی طرف سے ہو جو انسان کی نگاہ میں سہو و خطا اور ظلم و تعدی سے پاک ہو اور اس کی اپنی عزت اور عظمت اور جلال اتنا ہو کہ اس کے نتیجہ میں انسان اس کے بنائے ہوئے قانون کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو۔۔آٹھویں چیز اس آیت میں جو بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایسی ہستی اللہ تعالیٰ ہی کی ہستی ہے جو تمام عظمتوں کا مالک اور تمام عزتوں کا سر چشمہ ہے۔جو تمام صفاتِ حسنہ سے متصف اور تمام کمزوریوں اور نقائص سے پاک اور منزہ ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور شریعت ہی انسان کو ایک کامل اور منصفانہ نظام معیشت اور نظام اقتصادیت عطا کر سکتی ہے۔رَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ اور دنیوی مال و متاع جمع کرنے کے لئے جو نظام دنیوی لوگ بناتے ہیں وہ اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔وہ انسان کو تسلی دلانے والے