خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 656 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 656

خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۶۹ء کسی زید بکر نے نہیں دی تھی اسے یہ طاقت اللہ تعالیٰ ہی نے دی تھی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے قوت اور استعدادا اپنی مرضی سے جتنی چاہی ہے کسی کو دی ہے اور یہ چیز ایسی ہے جو انسان کے اختیار سے باہر ہے۔یعنی قوت اور استعداد کی تقسیم کفار مکہ کے ہاتھ میں نہیں اور نہ کسی اور انسان کے ہاتھ میں ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ ان قوتوں کے نتیجہ میں اقتصادی تفاوت پیدا ہو گیا۔ایک کو اللہ تعالیٰ نے بڑی زبر دست انتظامی قوت دی اور تجارتی سوجھ بوجھ عطا کی اس نے کروڑوں روپیہ کی ایک انڈسٹری کو منظم کر لیا اور اس طرح کروڑ پتی بن گیا اس کے مقابلہ میں ایک مزدور جو چھ من یا سات من بوجھ اٹھاتا ہے وہ گو دوسروں سے زیادہ اجرت لے رہا ہوتا ہے لیکن بہر حال پہلے شخص کی طرح اس کے پاس زیادہ دولت نہیں ہوتی۔جب وہ بیمار ہو جاتا ہے تو اس کے پاس علاج معالجہ کے لئے کوئی پیسہ نہیں ہوتا۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری تقسیم کی اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے حقوق کو قائم کیا ہے جب ایک بندہ جس کے پاس زیادہ دولت نہیں بیمار ہو جاتا ہے تو ہم خود اس کے ذمہ دار بن جاتے ہیں۔ہم اس کے علاج اور دواؤں کا انتظام کرتے ہیں۔ہم نے اقتصادی نظام ہی ایسا بنادیا ہے کہ دنیا میں اس قسم کا انتظام ہوتا رہے۔پھر چونکہ اقتصادی نظام کے نتیجہ میں دنیوی سامانوں یا پیداوار کی تقسیم مشتبہ ہوسکتی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ قوت اور استعداد دونوں کو شامل کر کے انسان کو کہا کہ ان چیزوں پر بحیثیت مجموعی نظر ڈالو پھر تم اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ تمہارے اختیار میں یہ بات نہیں کہ تم کسی کو جتنی چاہو طاقت قوت اور استعداد دے دو اور اس کے نتیجہ میں معاشی زندگی میں اور اقتصادی لحاظ سے تفاوت پیدا ہو جائے جس کے دور کرنے کا پھر تم سامان کرو۔غرض اللہ نے فرمایا ہے دیکھو ہم نے بعض کو بعض قوتیں دی ہیں اور بعض دوسرے انسانوں کو کچھ اور قو تیں دی ہیں۔کسی کی طبیعت میں کوئی ہنر رکھ دیا ہے اور کسی کی فطرت میں ایک دوسرا میلان پیدا کر دیا ہے۔اور جب اس بات کا نتیجہ نکلتا ہے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ کوئی تو دولت مند ہو گیا اور کوئی درویش ، فقیر اور نادار بن گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ سارا نظام اس لئے نہیں ہے کہ تم میں سے بعض بعض کو حقارت