خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 654 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 654

خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۶۹ء کیا ہے اور کچی پرستش گیارہ تقاضے انسان سے کرتی ہے۔جو آیت میں نے اپنے اس مضمون کی بنیاد بنائی تھی اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد ہوں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کے یہ تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی ہر حرکت وسکون اور انسان کے ہر عمل اور انسان کے ہر شعبہ زندگی کے ساتھ ان تقاضوں کا تعلق ہے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد جیسا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ادا نہیں ہو سکتے جب تک کہ ان کی ادائیگی میں ان گیارہ تقاضوں کا خیال نہ رکھا جائے اور جب تک ان میں یہ گیارہ خصوصیات نہ پائی جائیں۔آج میں ایک شعبہ زندگی کو لے کر کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ انسان انسان کے اقتصادی تعلقات ہیں۔سورہ زخرف کی جو آیت میں نے آج تلاوت کی ہے اس میں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے بڑی وضاحت سے اس پر روشنی ڈالی ہے یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ صحیح اور نفع رساں اقتصادی نظام صرف وہ نظام ہے جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے۔اس آیہ شریفہ سے پہلے منکرینِ اسلام یا یوں کہنا چاہیے کہ کفار مکہ یا اس وقت وہاں جو قوم کے سردار تھے ان کا یہ اعتراض بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو مکہ اور طائف کے بڑے بڑے رؤسا میں سے کسی رئیس پر کیوں نہ اُتارا تا کہ وہ اپنی دنیوی وجاہت اور دولت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے پیغام کو زیادہ اچھی طرح سنا سکتا اور ہم لوگ ( یعنی کفار مکہ اور اعتراض کرنے والے ) اس کی بات کی طرف زیادہ کان دھرتے بجائے اس کے کہ ایک یتیم اور بے کس اور بے ہنر امی کو منتخب کیا اور اس پر قرآن کریم کو نازل کر دیا وہ قرآن کریم جس کے متعلق دعوی یہ ہے کہ وہ ایک عظیم کتاب ہے۔عظیم کتاب کو ایک عظیم انسان پر اترنا چاہیے تھا یہ جاہلانہ اعتراض پیش ہوا تو اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک اصولی صداقت کو بیان کیا جس میں اس اعتراض کا جواب بھی آجاتا ہے اور ایک بنیادی اور اصولی صداقت پر بحث بھی ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کریم کا نزول اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیین اور افضل الرسل بنا کر دنیا کی طرف مبعوث کرنا جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ کرنا کہ وہ اپنی صفات کی بہترین تجلیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ظاہر کرے گا یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نتیجہ میں