خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 644 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 644

خطبات ناصر جلد دوم ۶۴۴ خطبہ جمعہ ۱۶ رمئی ۱۹۶۹ء تو جو دائرہ دوسرے کو اپنے اندر احاطہ کئے ہوئے ہے وہ قریباً ۵۵ فیصد بنتا ہے۔پس اگر سو میں سے ۴۵ نیکیاں ہوں اور ۵۵ بد اعمالیاں ہوں تو بد اعمالیوں کی سزا سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ بداعمالیوں نے سارے راستے بند کر دیئے۔انہوں نے ایک ایسا چکر ڈال لیا ہے کہ باہر نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔لیکن اگر تقلَتْ مَوَازِینہ نیکیاں پچاس فیصد سے زائد ہوں تو پھر اگر بدیاں احاطہ کرنے کی کوشش کریں تو وہ احاطہ کر نہیں سکیں گی کیونکہ ایک دروازہ کھلا رہ جاتا ہے اور وہ نجات کا دروازہ بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے اور وہاں سے اپنے بندے کو اپنے احسان سے نکال لیتا ہے۔اس گرفت سے اسے چھڑا لیتا ہے جو اس کی بدیوں نے اس کے گرد احاطہ کر کے کی ہوئی ہوتی ہے غرض اس دنیا کے غلط اصول کے مطابق تو ایک نوجوان تینتیس فیصد نمبر لے کر کامیاب ہو جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو قانون قرآن کریم میں وضع کیا ہے وہ یہ ہے کہ پاس ہونے کے لئے کم از کم پچپن فیصد نمبروں کی ضرورت ہے استثنائی صورت اس کے علاوہ ہے۔خدا تعالیٰ کسی پر رحمت کرنا چاہے تو وہ اور بات ہے۔اس کی رحمت نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔پس نیکیوں کا پلڑا بدیوں اور کوتاہیوں اور غفلتوں کے پلڑے پر غالب اور وزنی رہنا چاہیے۔نیکیوں کا دائرہ بدیوں کے دائرہ سے بڑا ہونا چاہیے ورنہ نجات کی راہ عام اصول کے مطابق بند ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی خاص قدرتوں کی تجلیات کا تو ذکر نہیں۔اللہ تعالیٰ ویسے بھی فضل ہی کرتا ہے لیکن عام اصول کے مطابق اگر بدیاں اس طرح پھیلی ہوئی ہوں کہ باہر نکلنے کا راستہ تنگ ہو تو پھر نیکیوں کے باوجود انسان ہلاکت میں چلا جاتا ہے۔نیکیوں کی توفیق بھی فضل الہی سے ہی ملتی ہے۔اسی واسطے اسلام نے یہ کہا ہے کہ نجات خدا کے فضل کے ذریعہ ہی حاصل ہوتی ہے۔خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کو صرف اس بات سے خوش نہیں ہو جانا چاہیے کہ انہوں نے ۳۰ فیصد یا ۴۰ فیصد نمبر لے لئے ہیں۔خدمت بنی نوع انسان کی اس تنظیم کو تو سو فیصد سے کم نمبروں پر خوش ہونا ہی نہیں چاہیے۔انسان چونکہ فطرتا کمزور ہے اس لئے ہم دس پندرہ فیصدی کا چھوٹا سامارجن(Margin) رکھ لیتے ہیں یعنی اگر پچاسی یا نوے فیصد کامیابی نہ ہو تو وہ کوئی کامیابی نہیں ہے۔ان دونوں تنظیموں کو یادرکھنا چاہیے کہ انصار الہ کی تنظیم میں تربیت اور حصول قرب الہی پر زور دیا گیا ہے اور خدام الاحمدیہ