خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 633
خطبات ناصر جلد دوم ۶۳۳ خطبہ جمعہ ۹رمئی ۱۹۶۹ء بسنے والوں سے تعلق رکھتے تھے یا ان کی دنیا میں بسنے والوں سے تعلق رکھتے تھے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دنیا کے محسن بنے ، دنیا کے مرتی بنے ، دنیا کے استاد بنے ، خدا کا قرب پانے والے اور اس کے حصول کی راہیں دکھانے والے بنے ، تقرب کے حصول کے سامان پیدا کرنے والے بنے ، چنانچہ متعصب دشمن بھی اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے کہ واقعہ میں وہ دنیا کے محسن اعظم تھے۔سوال پیدا ہوتا تھا کہ وہ کیوں اور کیسے ایسے بنے؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اس لئے بنے کہ میں نے قرآن کریم میں جو ہدایتیں دی تھیں ان پر انہوں نے عمل کیا۔تکبر اور خودستائی ، خود رائی اور خود نمائی ان میں نہیں تھی انہوں نے خدا میں ہو کر ایک نئی زندگی پائی تھی۔کیونکہ اپنے او پر انہوں نے ایک موت وارد کر لی تھی۔وہ اس حقیقت پر قائم ہو چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے بغیر اس دنیا میں بھی ترقی حاصل نہیں ہو سکتی اور وہ اس حقیقت کو بھی پہچانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے جو حقوق اس دنیا میں قائم کئے ہیں اگر کوئی قوم ان حقوق کی ادائیگی میں سستی اور غفلت سے کام لے تو کبھی کامیاب نہیں رہ سکتی۔چونکہ انہوں نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا وہ اس انعام کے وارث بنے اور یہ بڑا ز بر دست انعام ہے جس کا وعدہ دیا گیا ہے کہ ذلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ یہ قائم رہنے والی جماعت، یہ تنزل کے طوفانوں سے محفوظ رہنے والی جماعت کا دین ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے جو دین کے ثبات قدم اور صلوٰۃ اور زکوۃ کی بنیادوں پر کھڑا کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ توفیق عطا کرے کہ ہم اس کے حکموں کو سمجھے لگیں اور اس کی عبادت اس رنگ میں کریں جس رنگ میں وہ ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں اور اس کے نیچے اور پکے اور کامل اور حقیقی بندے بن جائیں اور ہمارا اپنا کچھ بھی باقی نہ رہے ہم اس کی خاطر ، اسی کے حکم سے، اس میں محو ہو کر فنا اور موت کو اپنے اوپر وار د کریں اور اس سے ایک نئی زندگی جو پیار کی زندگی ، جو محبت کی زندگی، جو احسان کی زندگی ہوا سے حاصل کریں اور خدا کرے کہ زکوۃ کے ادا کرنے میں جو بنیادی تعلیم ہمیں دی گئی ہے کہ ہر شے کا مالک اللہ ہے اور اس کا مصرف اس کے حکم اور حق کے قیام کے بغیر نہیں کیا جا سکتا اس حقیقت کو ہم سمجنے لگیں اور اس کے نتیجہ میں ہر اس شخص کو جس کا حق خدا نے قائم کیا ہے ہم اس کا حق ادا کر نے لگیں تا کوئی کدورت ، کوئی بے چینی ،