خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 623 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 623

خطبات ناصر جلد دوم ۶۲۳ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء ۴۲ آگے نکل جاتا ہے پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہ الوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔تب اس کی روح اس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے۔یہ ہے اس دعا کی ماہیت یعنی جب تک انسان کو یہ مقام حاصل نہ ہو وہ عبادت کا مفہوم ہی نہیں سمجھ سکتا۔اس کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔فرمایا کہ تم عبادت کے لئے پیدا کئے گئے ہو عبادت کے یہ تقاضے ہیں عبادت تم پر یہ ذمہ داریاں ڈالتی ہے اس لئے پہلی شرط یہ ہے کہ تم پختہ عزم کرو کہ ہم ایک دفعہ صراط مستقیم کو حاصل کرنے کے بعد اس راہ سے نہیں بھٹکیں گے ، بلکہ خواہ کچھ ہو جائے ثبات قدم دکھائیں گے۔ساری دنیا کے پہاڑ مل کر ہم پر گرنے کی کوشش کریں اور ہمیں قیمے سے بھی باریک ذرّوں میں منتقل کرنے کی کوشش کریں اور ساتھ یہ ہو کہ اگر تم اپنے رب سے تعلق توڑ دو تو تم اس فنا سے بیچ سکتے ہو، تو خدا کا بندہ کہے گا کہ نہیں مجھے اس جسم کی فانی زندگی منظور نہیں۔روحانی زندگی اور اس کی بقا کا انحصار اس بات پر ہے کہ میرا اپنے رب سے تعلق قطع نہ ہو اور میں اس سے دُوری کی راہ کو اختیار نہ کروں۔پس جب یہ جذب پیدا ہو جاتا ہے اور انسان کی فطرت بیدار ہو جاتی ہے تو وہ اس کے نتیجہ میں کامل یقین ، کامل اُمید، کامل محبت کامل وفاداری کامل ہمت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ فنا کے میدانوں میں سے گزرتا ہے یعنی اس پر ایک فناوار دہوتی ہے اور پھر جب وہ ان میدانوں کو عبور کر لیتا ہے تو کیا دیکھتا ہے بارگا ہ الوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔یہ عبادت کا حق ادا ہو گیا نا تب اس کی روح اس کے آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور پھر وہ سر اس آستانہ سے کبھی اٹھتا نہیں۔پس حنفاء کے بعد یہ بتایا کہ یقیمُوا الصَّلوةَ ان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ چونکہ تم میری عبادت کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔اس لئے اس مفہوم میں دعا کو قائم کرو۔تا کہ اس کے اوپر وہ عمارت کھڑی ہو سکے جو تمہاری جنت کی عمارت ہے اس قسم کی دعا کا کیا اثر ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس دعا کے ساتھ روح پگھلتی ہے اور پانی کی طرح بہہ کر آستانہ حضرت احدیت