خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 596
خطبات ناصر جلد دوم ۵۹۶ خطبہ جمعہ ۱/۲۵ پریل ۱۹۶۹ء ہمارے دوسرے مین سے ذاتی تعلق ہونا چاہیے۔اس کے بغیر مُخْلِصِينَ لَهُ الدّین میں جس محاسبہ کا تقاضا کیا گیا ہے وہ پورا نہیں ہوسکتا۔قادیان کی بات ہے ہم نے بظاہر ایک باغی دماغ رکھنے والے نوجوان کا محاسبہ کیا۔کسی کام میں بھی وہ حصہ نہیں لیتا تھا۔بغاوت کرتا تھا کوئی بات نہیں مانتا تھا۔پہلے میں نے سائق سے کہا کہ تم اس کو سمجھاؤ۔اس طرح اس کی اصلاح کی کوشش کی مگر وہ نہ مانا۔پھر محلہ میں م مہتمین نے اس کی اصلاح کی کوشش کی۔کسی مرحلے پر بھی وہ بغاوت چھوڑنے پر تیار نہ ہوا آخر میں نے اس کو بلایا۔مجھے اس وقت تک اس کے متعلق ذاتی علم نہیں تھا میں نے سوچا کہ مجھے اس کی طبیعت ، فطرت، ضرورت اور باغیانہ خیالات کی وجہ ( یعنی نظام خدام الاحمدیہ سے بغاوت میری مراد ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اسلام سے بھی بغاوت کیونکہ وہ نمازوں کی طرف بھی تو جہ نہیں دے رہا تھا اللہ تعالیٰ کا بھی باغی بن گیا تھا ) کا علم ہونا چاہیے اس کے بغیر میں اس کی اصلاح کیسے کر سکوں گا۔چنانچہ میں نے بڑے آرام سے بڑے پیار سے اس سے باتیں کرنی شروع کیں۔اس کے چہرے سے پتہ لگتا تھا کہ اس کی طبیعت میں بڑا تناؤ ہے۔کوئی ایک گھنٹہ تک اس سے باتیں کرنے سے میں سمجھ گیا کہ بیماری کیا ہے؟ دراصل اس کی بیماری کی جڑھ اپنے باپ کے خلاف جائز یا ناجائز شکایت کی بنا پر بغاوت تھی کہ باپ محبت نہیں رکھتا۔میرے حقوق ادا نہیں کرتے۔جب مجھے یہ پتہ لگا تو بجائے اس کے کہ جو چھ مہینے سے اس کے خلاف کیس بنا ہوا تھا کہ اس کو سوٹیاں لگنی چاہئیں میں نے یہ فیصلہ بدل دیا اور اپنے دل میں کہا کہ اس کو کچھ نہیں کہنا چاہیے کیونکہ اس کی اصلاح مذنظر ہے۔سوٹیاں کھا کے تو یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔میں نے اس کو کہا کہ دیکھو میں تم سے عمر میں زیادہ بڑا نہیں ہوں۔تمہارے باپ جتنا نہیں ہوں لیکن تم سمجھو کہ آج سے میں تمہارا باپ ہوں تمہیں کوئی شکایت، کوئی دُکھ ہو، کوئی تکلیف ہو تم میرے پاس آؤ جس حد تک مجھے طاقت ہوگی ، میرے امکان میں ہوگا میں تمہاری مدد کروں گا۔میں تمہاری شکایت دُور کرنے کی کوشش کروں گا۔وہ وہاں سے اُٹھا ساری بغاوتیں دور ہوگئیں۔تعاون کرنے لگ گیا۔غرض جب تک علم نہ ہو آپ محاسبہ کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے آپ اس نوجوان کا محاسبہ کرتے تو غلط نتیجہ پر پہنچ جاتے۔بہت سے انسان بدقسمتی سے ٹوٹ جاتے ہیں کیونکہ ان کے