خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 594
خطبات ناصر جلد دوم ۵۹۴ خطبه جمعه ۱/۲۵ پریل ۱۹۶۹ء نہیں کیا اور خود کو تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى ( المائدة : ۳) پر عمل کرنے کا اہل نہیں بنایا۔میں بتارہا تھا کہ اصل تو اللہ تعالیٰ کا محاسبہ ہے کیونکہ ہر چیز کا اس نے احاطہ کیا ہوا ہے۔اس کے محاسبہ کے متعلق احادیث میں مختلف الفاظ آئے ہیں۔حدیث میں ہے مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ اور مَنْ نُوْقِشَ فِي الْحِسَابِ عُذِّبَ ( مختلف روایتیں ہیں ) یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے جس کا حساب لینا شروع کر دیا وہ سمجھ لے کہ اس کو سزا مل گئی۔ورنہ اللہ تعالیٰ جن کو معاف کر دیتا ہے ان کو کہہ دیتا ہے کہ جاؤ تم سے نہیں پوچھتے۔اس کے علم سے تو ایسے شخص کی کمزوریاں چھپی ہوئی نہیں ہوتیں۔اللہ تعالیٰ کو پورا علم ہوتا ہے کہ اس نے یہ گناہ کئے اور یہ غفلتیں اور یہ کو تا ہیاں کیں۔جو ذ مہ داریاں نباہنی چاہئیں تھیں نہیں نبا ہیں لیکن اس کی رحمت اپنے بندے کے لئے جوش میں آتی ہے وہ کہتا ہے کہ تم نے بعض ایسے کام بھی کئے جن سے میں تم سے خوش ہوا۔جاؤ کوئی حساب نہیں۔پس اس حدیث کی رُو سے قیامت والے دن جس کا اللہ تعالیٰ نے حساب لینا شروع کر دیا وہ ہلاک ہو گیا۔حساب کی تو اسے ضرورت نہیں اس کا تو علم کامل ہے۔خدا تعالیٰ دوسروں کو بتانا چاہتا ہے کہ میں اس کو پکڑ رہا ہوں اس کی گرفت کر رہا ہوں۔صفت علیم کا ایک مظاہرہ ہے انسان علام الغیوب تو نہیں بن سکتا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ خودا سے غیب کا کچھ علم دے دے لیکن انسان اپنی قوت اور استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کی صفت علیم سے متصف ہو سکتا ہے پوری طرح تو کوئی بھی علیم نہیں ہوسکتا کیونکہ خدا کا دنیا میں کوئی مثیل نہیں ہے اس کی ہستی بے نظیر ہے۔وہ احد ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ بھی حکم ہے کہ تَخَلَّقُوْا بِأَخْلَاقِ اللہ کہ ایک حد تک تم اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی صفات پیدا کر سکتے ہو اور تمہیں پیدا کرنی چاہیے تو اس کی صفت علیم بھی ہمیں اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے ورنہ ہم یہ ذمہ داری ادا نہیں کر سکتے۔اس کے نباہنے کے پھر آگے طریق ہیں لیکن انسان کے علم میں ہونا چاہیے۔مثلاً بچے کی اچھی بری عادتیں علم میں ہونی چاہئیں بعض ماں باپ بچے پر بڑی سختی کرتے ہیں۔وہ ان سے اپنی عادتیں چھپانے لگ جاتا ہے اور یہ اس کے لئے ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔باپ کو تو دراصل بچوں کا گھوڑا ہی بننا چاہیے۔اس کی ساری ذمہ داری جو اُٹھانی ہے۔جس بچے کے ساتھ