خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 578
خطبات ناصر جلد دوم ۵۷۸ خطبه جمعه ۱۸ را پریل ۱۹۶۹ ء دے گا اللہ تعالیٰ کے نئے سے نئے احکام اور قوانین انسان کے سامنے آتے رہتے ہیں لیکن یہ کہ کوئی سائنس دان اللہ تعالیٰ کے کسی قانون کو توڑ کر کوئی نئی چیز بنائے۔یہ کسی سائنس دان کا دعویٰ نہیں اور نہ یہ بات اس کے دماغ میں آسکتی ہے چاہے وہ خدا کو مانتا ہو یا نہ مانتا ہو۔غرض ایک تو اس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم جاری ہوتا ہے۔دوسرا مظاہرہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے اجرا کا ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اس نے ایک ایسی مخلوق پیدا کی جسے اس نے کہا کہ میں تجھے بعض ایسے احکام دوں گا جن کے متعلق تجھے یہ قدرت اور اختیار بھی دوں گا کہ اگر تو چاہے تو اس کا انکار کر دے۔اب ایک ظاہر بین نگاہ میں ( جو محض ظاہر کو دیکھتی ہے ) گویا انسان نے خدا کا حکم توڑ دیا وہ سمجھتا ہے کہ خدا کا حکم اس معنی میں جاری نہیں تھا حالانکہ حکم کو توڑنے کی طاقت اور قوت اللہ تعالیٰ نے ہی اسے دی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ ایک انسان کو جو خدا کے حکم کو بشاشت کے ساتھ اپنی مرضی اور اختیار سے قبول کرنے والا ہو پیدا ہی نہ کرتا تو یہ شکل ہمارے سامنے نہ آتی۔اللہ تعالیٰ کا ایسی مخلوق پیدا کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ دنیا کو یا فرشتوں کو یا شیطان کو یہ بتائے کہ ہم نے ایک ایسی مخلوق پیدا کی ہے کہ جو اپنے اختیار اور اپنی مرضی سے ہمارے احکام کے نیچے اپنی گردن رکھتی ہے۔خواہ ایسا کرنے میں دنیوی اور جسمانی طور پر اسے کتنی ہی تکلیف کیوں محسوس نہ ہو لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم اپنی پوری شکل میں یہاں بھی جاری ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا صرف یہ حکم نہیں کہ تم میری عبادت کرو اور اس کے تقاضوں کو پورا کرو بلکہ جو حکم اور فیصلہ اللہ تعالیٰ نے جاری کیا ہے یہ ہے کہ تم میرے احکام اوامر اور نواہی کی پابندی کرو۔اگر تم ایسا کرو گے تو میں تمہیں اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کروں گا اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تم جہنم میں جاؤ گے۔یہ ہے پورا بنیادی حکم جو اس آزاد انسان کی دنیا میں ہمیں نظر آتا ہے۔اس حکم کو کوئی شخص تو ڑ نہیں سکتا کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں خدا تعالیٰ کے احکام کو توڑوں گا اور جن باتوں سے رکنے کی اس نے مجھے تعلیم دی ہے وہ میں کروں گا اور پھر بھی میں خدا کی جنت میں چلا جاؤں گا۔یہ ہو نہیں سکتا حکم خدا کا ہی جاری ہے۔خدا کی جنت میں وہی جائے گا جو برضا و رغبت اپنے اختیار اور مرضی اور بشاشت سے قربانیاں دیتے ہوئے ان احکام کو خلوص نیت کے ساتھ اپنی زندگی میں پورا کرے گا۔اسی کے نتیجہ میں اسی