خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 576
خطبات ناصر جلد دوم ۵۷۶ خطبه جمعه ۱۸ را پریل ۱۹۶۹ ء انسان کو پیدا کیا گیا ہے وہ مقصدِ حیات پورا ہو، نیز یہ حکم دیا ہے کہ اس عبادت کے تمام تقاضوں کو پورا کرو۔عبادت کے تقاضوں کا ذکر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِین میں ہے الدین کے مختلف معانی مختلف تقاضوں کی طرف ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔چار تقاضوں کے متعلق جو عبادت سے وابستہ ہیں میں گزشتہ خطبہ میں مختصراً بیان کر چکا ہوں۔پانچوں تقاضا جو یہ حکم بنی نوع انسان سے کرتا ہے کہ صرف اور صرف اللہ کی عبادت کی جائے یہ ہے کہ الدین کے معنی الْحُكْمُ یعنی حکم کے بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عبادت یہ نہیں کہ تم میرے بتائے ہوئے طریق پر نماز یا نماز با جماعت ادا کر و یا دوسری عبادات بجالا ولیکن ان احکام سے جو اوامر و نواہی کی شکل میں تمہاری زندگی سے تعلق رکھنے والے ہیں غافل ہو جاؤ۔کبھی غیر کی طرف دیکھو اور اس کا حکم ماننے کے لئے تیار ہو جاؤ۔کبھی اپنے نفسوں کے اندر جھانکو اور ہوائے نفس تمہیں خدا تعالیٰ سے دور لے جانے لگے۔عبادت سے یہ مراد نہیں بلکہ عبادت مخصوص اطاعت حکم کو چاہتی ہے۔یعنی حکم اللہ ہی کا جاری ہو۔اس معنی کی طرف سورۃ یوسف میں بڑی وضاحت سے توجہ دلائی گئی ہے فرمایا۔اِنِ الْحُكْمُ إلَّا لِلهِ (يوسف: ۴۱) حکم صرف اللہ کا ہے اَمَرَ اَلا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ (یوسف: ۴۱) اس نے یہ حکم دیا ہے کہ سوائے اس کے اور کسی کی عبادت نہیں کرنی۔اس سے وضاحت ہو جاتی ہے کہ ہمیں صرف اللہ ہی کی عبادت کرنی چاہیے اور خالصہ اللہ کی عبادت کے معنی یہ ہیں کہ حکم اسی کا جاری ہوا اور ہمیں دوشکلوں میں اس کا حکم جاری نظر آرہا ہے ایک تو انسان کے دائرہ اختیار کو علیحدہ کر لیں تو اس میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم اس طرح جاری ہوتا ہے کہ جو وہ کہتا ہے اس کی مخلوق وہی کرتی ہے۔فرشتوں کے متعلق ان کی صفت بیان کرتے ہوئے ایک جگہ قرآن کریم نے کہا ہے کہ جو انہیں کہا جاتا ہے وہی کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس سے ایک لطیف استدلال اور بھی کیا ہے اور وہ یہ کہ ہر وہ چیز جو اس طرح خدا تعالیٰ کا حکم مانتی ہے کہ اس کو انکار کا اختیار نہیں وہ فرشتوں کے وجود میں آگئی ہے یعنی وہ بھی فرشتہ ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ دنیا کا ہر ذرہ فرشتہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا جو بھی حکم ہو وہ اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتا ہے۔اس کے لئے یہ ممکن نہیں۔اسے یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ جو اللہ اسے کہے وہ نہ کرے۔پس ہر وہ چیز جو