خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 43
خطبات ناصر جلد دوم ۴۳ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۶۸ء مرضی اے کہہ دیئے سہانوں کوئی کسج نہیں کہہ سکدا۔ابھی دو تین مہینے ہوئے جامعہ احمدیہ کا ایک ایسا طالب علم جو قریباً فارغ ہو چکا ہے اس کے متعلق مجھے یہ رپورٹ ملی کہ وہ کہتا ہے کہ میں جو مرضی ہے کہتا ہوں مجھے کوئی کچھ نہیں کہے گا آگے وجہ بھی اس نے احمقانہ بیان کی جس کے ذکر کی یہاں ضرورت نہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر تم خلافت کے مقابلے میں کوئی بات کہتے ہو تو دنیا تمہیں آسمانوں کی عرب تیں بھی عطا کر دے تو تب بھی تمہیں کوئی فائدہ نہیں کیونکہ خدا کی نگاہ میں تم فاسق بن گئے۔فَأُولبِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ میں شامل ہو گئے ہو۔اللہ تعالیٰ نے یہاں وضاحت سے فرمایا ہے کہ خالی منہ کی باتیں بھی کافی نہیں یعنی اگر تم نے خدا کی نگاہ میں عزت حاصل کرنی ہے اور حقیقی طور پر معزز بنا ہے تو حض الْكَلِمُ الطَّيِّبُ کافی نہیں کیونکہ یہ تو صیح ہے کہ الْكَلِمُ الطيب کا صعود اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ بغیر سہارے کے الْكَلِمُ الطَّيِّب خدا تک نہیں پہنچتے۔اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بتایا ہے کہ وہی الْكَلِمُ الطَّيِّبُ جن کو اعمالِ صالحہ کا سہارا ہے خدا تعالیٰ تک پہنچتے ہیں ( وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ ) تو نیک اعتقاد ، میٹھے اور معطّر بول جو اعمالِ صالحہ کے سہارے بلند ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتے ہیں جو عزت کا سرچشمہ ہے۔زبان بھی خدا کی پسندیدہ اور جوارح بھی خدا کے مطیع ہوں تو پھر خدا کی نگاہ میں انسان عزت پاتا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت بھی ایسے شخص کو بے عزت نہیں کر سکتی۔جاہل دنیا نے اسلام اور مسلمانوں کو ہر طرح ذلیل کرنے کی کوشش کی کیا وہ ذلیل ہو گئے؟ کیا وہ ذلیل ہوا جس کو خدا نے پیار سے اپنی گود میں بٹھا لیا اور اپنی رضا کی جنت میں داخل کیا یا وہ ذلیل ہوا جس کو دنیا میں تو بجوتے نہیں پڑے مگر اس کے رب نے اسے کہا ذُقُ اِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ تو بڑا معزز اور مکرم بنا پھرتا تھا جا! ہماری جہنم میں داخل ہو اور اس جھوٹی عزت اور تکبر کا جس کی وجہ سے میرے پیاروں کو تُو نے دکھ پہنچایا تھا آج نتیجہ دیکھ لے اور اس کی سزا کو پا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيَاتِ جو لوگ زبان بھی جہالت والی اور فسق و فجور والی رکھتے ہیں اور اعمال بھی ان کے اسی قسم کے ہیں لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وہ میرے غضب کی جہنم