خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 534
خطبات ناصر جلد دوم ۵۳۴ خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۶۹ء جلوے بھی ہوں اور مجیب ہونے کے جلوے بھی ہوں جب یہ تعلق قائم ہو جاتا ہے تو انسان خدا تعالیٰ کو ہر غیر سے زیادہ قریب پاتا ہے۔وہ اسے ہر غیر سے زیادہ طاقتور اور محبت کرنے والا دیکھتا ہے۔غیر تو انسان کی نظر میں محض ایک لاشے ہو جاتا ہے کیونکہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کو اپنی آنکھوں کے سامنے پاتا ہے تو وہ کون غیر ہے جو اس سے پرے یا اس کے کناروں پر اسے نظر آ سکے کیونکہ خدا ایک عظیم ہستی ہے اس کا جلال تو انسانی درخت وجود کی جڑیں جھنجھوڑ کے رکھ دیتا ہے۔پھر اس کو غیر کی کچھ پروا نہیں ہوتی اور نہ وہ غیر کو کچھ سمجھتا ہے۔غیر سمجھتا ہے کہ میں بڑا طاقت ور ہوں اور اگر چاہوں تو خدا تعالیٰ کی جماعت کو مٹا سکتا ہوں لیکن وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی جماعت کی طرف منسوب ہوتے ہیں ان کی آنکھوں کے سامنے تو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا جلال ہوتا ہے۔وہ کسی ایسی راہ کو اختیار نہیں کر سکتے جو اس سے دور لے جانے والی اور اس کے غضب اور قہر کو بھڑ کانے والی ہو۔ان لوگوں کے سامنے خدا تعالیٰ کے حسن اور اس کے احسان کے جلوے ہوتے ہیں اور کسی غیر کی احتیاج باقی نہیں رہتی۔روحانی جذبات کی تسکین کے لئے اس کا حسن موجود ہے اور ضرورتیں اور حاجتیں پوری کرانے کے لئے اس کے احسان کے جلوے ہیں۔پس نہ غیر کا خوف باقی رہتا ہے اور نہ غیر کی ضرورت باقی رہتی ہے جو شخص خود کو اپنے رب کی گود میں پائے تو کیا اسے کسی اور کی گود کی نرمی اور گرمی کی ضرورت باقی رہتی ہے؟ یہی وجہ تھی کہ بہتوں نے خدا کے لئے اپنی ماؤں کو قربان کر دیا حالانکہ ان ماؤں کی گود کی نرمی اور گرمی میں انہوں نے اپنا بچپن گزارا تھا کیونکہ اس کے مقابلہ میں انہیں ان کے رب کی محبت زیادہ نظر آئی ہماری جماعت کے ہر فرد کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ تیسری قسم کا قرب حاصل کرے یعنی وہ اس رب کا قرب حاصل کرے جو اسے اپنی پوری عظمت اور جلال اور حسن و احسان کے ساتھ قریب بھی نظر آئے اور ا اپنی ساری طاقتوں اور قدرتوں کے ساتھ اسے مجیب بھی نظر آئے کیونکہ اگر ایسا ہو جائے تو تبھی ہم ہر قسم کی روحانی مسرتیں حاصل کر سکتے ہیں اور تبھی ہم ان لوگوں میں داخل ہو سکتے ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ يَنْصُرُكَ رِجَالُ نُوحِي إِلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ -