خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 532 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 532

خطبات ناصر جلد دوم ۵۳۲ خطبہ جمعہ ۲۸ فروری ۱۹۶۹ء اور اپنی مرضی سے بدی کو چھوڑو۔اگر تم ایسا کرو گے تو میں تمہیں قُرب کے کمال تک پہنچادوں گا چونکہ تُو نے ہمیں بدی کی طرف میلان بھی دیا ہے اور ہم کمزور انسان ہیں اس لئے ہم اس بدی پر اور اس شیطان پر اس وقت تک غلبہ حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تُو ہماری مدد کو نہ آئے جب تک تیری طاقت کا سہارا ہمیں حاصل نہ ہو پس تو ہمیں سہارا دے تو ہماری مدد کو آتا کہ ہماری بشری کمزوریاں ڈھک جائیں اور ہم سے بدیاں سرزد نہ ہوں۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم کثرت سے استغفار کیا کرو اگر تم ایسا کرو گے تو میں تمہاری مدد کو آؤں گا اور تمہاری بشری کمزوریوں کو ڈھانک دوں گا اور تمہاری ترقیات کی راہوں میں جو روکیں ہیں وہ دور ہو جائیں گی اور تمہاری فطرت اپنے بدی کے میلان کو بھول جائے گی اور دوسرا میلان جو روحانی رفعتوں کی طرف پرواز کرنے کا میلان ہے اس میں پوری توجہ سے منہمک ہو جائے گی تا وہ روحانی رفعتوں کی طرف پرواز کرے اور خدا تعالیٰ کے قرب کو پائے۔پس اس آیت میں قریب اور مجیب خدا سے ملانے کی ایک راہ استغفار بتائی گئی ہے۔دوسری راہ تو بہ کی بتائی گئی ہے جب بشری کمزوریاں دور ہو جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان اپنی طاقت سے نیکی کر سکتا ہے یا اپنے اعمال کے اچھے نتائج اپنے زور سے نکال سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم عاجزی اور انکساری کے ساتھ میری طرف رجوع کرو اور اپنے پیدا کرنے والے کی طرف بھا گو۔جب تم اس کی طرف رجوع کرو گے اور اسے پالینے کے لئے اس کی طرف بھا گو گے، اعمالِ صالحہ بجالانے کی کوشش کرو گے، دعاؤں میں منہمک رہو گے اور تمہارے سینے خدا تعالیٰ کے ذکر سے معمور رہیں گے تو جس تیزی کے ساتھ تم اس کی طرف بڑھ رہے ہو گے اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ وہ رجوع برحمت ہوگا۔پس استغفار اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع یہ دو باتیں اصولی طور پر ایسی ہیں جن کے نتیجہ میں خدائے قریب و مجیب کے ساتھ تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔تمام بدیوں سے رکنے کی طاقت استغفار سے ملتی ہے اور طاقت حاصل کرنے کے بعد ہر قسم کی نیکیاں بجالانے کی کوشش تو بہ کے اندر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف عاجزی اور انکساری کے ساتھ رجوع ہو یعنی انسان خود کو کچھ