خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 529
خطبات ناصر جلد دوم ۵۲۹ خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۶۹ء ضرورت نہیں کیونکہ وہ اس کام کے لئے بنے ہی نہیں۔دوسری قسم کا قرب بھی گوانسان سے مخصوص ہے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ اپنے قرب کے جلوے تو ظاہر کرتا ہے مگر پیار سے اپنے مجیب ہونے کے جلوے ظاہر نہیں کرتا ہاں وہ قہر اور غضب کے جلوے ظاہر کرتا ہے۔تیسری قسم کا قرب پیار کا مقرب ہے اسی کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ایک ایسا گروہ تھے جنہوں نے انتہائی تکالیف برداشت کیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رب کا ساتھ نہیں چھوڑا اس لئے کہ ان لوگوں پر اس رب کے جلوے ظاہر ہو چکے تھے جو قریب بھی ہے اور مجیب “ بھی ہے۔وہ اپنی زندگیوں میں زندہ خدا کی زندہ نجاتی مشاہدہ کرتے تھے اور اس کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ذاتی محبت پیدا ہو گئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کو اگر پیسا جائے اور پھر ان کو نچوڑا جائے تو جو شربت اور نچوڑ نکلے گا وہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہوگی۔یہ لوگ ہر قسم کے مصائب میں سے گزرتے تھے لیکن خدا تعالیٰ سے ان کا تعلق پختہ رہتا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے وہ ادھر ادھر نہیں ہوتے تھے اس لئے کہ اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے قریب اور مجیب ہونے کے جلوے دیکھے تھے۔اس کے بغیر کوئی قوم اس قسم کی قربانیاں پیش نہیں کر سکتی جو صحابہ نے پیش کیں۔اس کے بغیر انسان کی فطرت اس قسم کی تسلی نہیں پکڑ سکتی کہ ایک لگن ہے، ایک جوش ہے، ایک آگ ہے جو دل میں بھڑک رہی ہے کہ میرا رب مجھ سے خوش ہو جائے۔اس سے میرا تعلق قائم ہو جائے۔اس قسم کا قرب حاصل نہ کرنے والے انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کے جلوے تو دیکھ لیتے ہیں کیونکہ وہ ذی شعور ہیں اور روحانیت رکھتے ہیں لیکن وہ اسی قسم کے جلوے ہیں جو ایک درخت پر بھی ظاہر ہوتے ہیں صرف فرق یہ ہے کہ درخت ذی شعور نہیں اور اسے ان کا احساس نہیں ہوتا۔وہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے جلوے بھی دیکھتے ہیں جب وہ اس کے قہر کا قرب کسی اور قوم یا گروہ پر نازل ہوتے دیکھتے ہیں لیکن انہیں یہ علم کیونکر حاصل ہو کہ ان کا رب ان سے خوش ہو گیا ہے اس بات کا تو تبھی پتہ لگ سکتا ہے جب قرب رحمت خدا تعالیٰ کے قریب اور مجیب ہونے کے جلوے دکھائے۔غرض صرف خدا تعالیٰ کے قریب ہونے کا جلوہ فطرت انسانی کو ساتی نہیں دے سکتا اسی لئے انبیاء علیہم السلام