خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 516 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 516

خطبات ناصر جلد دوم ۵۱۶ خطبہ جمعہ ۲۱ فروری ۱۹۶۹ء تمام صُحف سماوی کے نزول اور تمام انبیاء کی بعثت کی غرض یہی ہوتی ہے کہ انسان اپنی استعداد اور قوت کے مطابق اپنے رب سے ایک تعلق جو حقیقی ہو جس میں کوئی فساد نہ ہو جو سچا ہو قائم کرے۔انسانی قوی میں بہترین نشوونما کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک اعلیٰ اور ارفع شریعت نازل ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نے یہ ثابت کیا کہ اس شریعت پر عمل پیرا ہو کر انسان کا اپنے رب کے ساتھ اس قسم کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے کہ انسان اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں اس کی ہر قسم کی رحمتوں اور اس کی ہر قسم کی رضا کا وارث بن جاتا ہے اور ایک ایسی زندگی پاتا ہے جس سے بہتر کوئی زندگی ہو نہیں سکتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح میں نے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو حاصل کیا ہے۔اسی طرح تم بھی اگر چاہو تو ان نعمتوں کو حاصل کر سکتے ہو۔شرط یہ ہے کہ تم اپنے خدائے واحد و یگانہ کی معرفت حاصل کر لو اور اس کی عظمت اور جلال کے تقاضوں کو پورا کرو اور جب تم اس سے ایک دفعہ تعلق قائم کر لو تو پھر تمہارے پاؤں میں لغزش نہ آئے تمہیں استقامت کا مقام حاصل ہو تمہیں صبر کا مقام حاصل ہو تو تم بھی میری طرح اپنی اپنی استعداد کے مطابق اپنے رب کی نعمتوں کے وارث ہو جاؤ گے لیکن اس بات کو یاد رکھو کہ جس طرح میں ایک بشر ہوں تم بھی بشر ہو اور بشری کمزوریوں کے ضرر سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ کی مغفرت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے وَاسْتَغْفِرُوهُ تم کثرت کے ساتھ استغفار کرو اور اتنی کثرت کے ساتھ استغفار کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تمام بشری کمزوریوں کو ڈھانپ لے اور جب تمہاری تمام بشری کمزور یاں خدا تعالیٰ کی مغفرت کی چادر کے نیچے چھپ جائیں گی تو تمہاری تمام بشری قوتیں اور استعداد میں خدا تعالیٰ کے حکم سے صحیح نشو و نما پائیں گی اور تم خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرو گے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ (البقرة : ٢٠٨) کہ یہ حکم سننے کے بعد کہ ایک کامل اور مکمل شریعت کا نزول ہو چکا اور ایک حقیقی اور سے تعلق باللہ کا سامان پیدا ہو گیا اس لئے اے نوع انسان فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم