خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 515 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 515

خطبات ناصر جلد دوم ۵۱۵ خطبہ جمعہ ۲۱ فروری ۱۹۶۹ء مذہب کی اصل غرض یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی محبت کو حاصل کرے فرمائی۔خطبه جمعه فرموده ۲۱ فروری ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الهُكُمْ إِلهُ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ - ( حم السجدة : - ) اس کے بعد فرمایا :۔اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں فرماتا ہے کہ تو دنیا میں یہ اعلان کر دے کہ میں بھی تمہاری طرح کا ہی ایک انسان ہوں اللہ تعالیٰ نے میرے پر کامل وحی کی ہے۔جس کی غرض یہ ہے کہ انسان کا اپنے رب کے ساتھ ایک پختہ اور حقیقی تعلق قائم ہو جائے۔تمہاری طرح کا ایک انسان ہونے کے باوجود میں نے اللہ تعالیٰ کی اس تعلیم پر عمل کر کے اور خدا تعالیٰ کے منشا اور اس کی رضا کے تقاضوں کو پورا کر کے اس سے ایک پختہ اور سچا اور حقیقی تعلق پیدا کر لیا ہے۔اسی طرح تم بھی ایک پختہ تعلق اپنے رب سے پیدا کر کے اس کی رضا اور اس کی رحمت کو حاصل کر سکتے ہو۔پس شریعت اسلامیہ کے نزول کی اصل غرض بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تمام مذاہب کے نزول،