خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 503 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 503

خطبات ناصر جلد دوم ۵۰۳ خطبہ جمعہ ۱۴ فروری ۱۹۶۹ء سے خالی ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی ایسی قوت اور طاقت ہے جس قوت اور طاقت کا انسان مقابلہ نہیں کر سکتا۔پس صبر کے ایک معنی ہیں دشمن کے منصوبوں اور سازشوں کا حو صلے اور جرات کے ساتھ مقابلہ کرنا۔اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ یہ دعا کرتے رہا کرو کہ اے ہمارے ربّ! أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا جو منصو بے اسلام کے خلاف باندھے جائیں جو سازشیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کی جائیں تو ہمیں حوصلہ اور جرات عطا کر کہ ہم ان کا مقابلہ کریں اور انہیں تیرے فضل سے ناکام بنادیں۔پھر صبر کے چوتھے معنی اس امتحان کے ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا لیتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے یہ بیان ہوا ہے کہ صرف ایمان کا اقرار اور دعوی یا اعلان جو ہے وہ تمہارے کام نہیں آئے گا۔تمہارے ایمان کی صداقت کو پرکھنے کے لئے تمہارا امتحان لیا جائے گا اور وہ امتحان مختلف طریقوں سے ہوگا۔ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالی حوادث زمانہ کی شکل میں امتحان کا پر چہ ڈالے گا۔بچے فوت ہو جائیں گے۔حوادث آئیں گے فصلیں تباہ ہو جائیں گی۔تجارتوں میں گھاٹے پڑیں گے لوگ طعنے دیں گے کہ مسلمان ہو گئے ، احمدی ہو گئے دیکھو! تمہیں کتنی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو خالی دعوی کافی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارا امتحان لے گا اور تمہیں حوادث زمانہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس وقت پورے صبر سے ان حوادث کو برداشت کرنا تمہارا کام ہے۔تمہارا سینہ ایسے امتحان کے وقت تنگ نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمہارے سینہ میں ایک بشاشت پیدا ہونی چاہیے کہ خدا نے میرا امتحان لیا اور خدا نے اپنے فضل سے مجھے تو فیق دی کہ میں اس کے اس امتحان میں کامیاب ہو جاؤں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دعا کرتے رہو " آفرغ عَلَيْنَا صَبُرا کہ اے ہمارے رب ! تو جب بھی ہمارا امتحان لینا چاہے ساتھ ہمیں اس کی توفیق بھی دے کہ ہم تیرے اس امتحان میں کامیاب بھی ہوں اور جو ہمارے حقیر اعمال ہیں ان کا نتیجہ تیری خوشنودی اور رضا کی شکل میں نکلے۔صبر کے پانچویں معنی ہیں زبان پر قابورکھنا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دعا کرتے رہو’ آفرغ عَلَيْنَا صَبْرًا “ کہ اے خدا! ہمیں اس بات کی قوت بخش کہ ہم اپنی زبان کو اپنے قابو میں رکھیں