خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 497
خطبات ناصر جلد دوم ۴۹۷ خطبہ جمعہ ۷ رفروری ۱۹۶۹ء پر توکل سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور ہمیں خدا تعالیٰ کی تسلی دینے والی آواز تسلی دیتی ہے کہ گھبراؤ نہیں میں جس کی تدبیر کے مقابلہ میں کوئی تدبیر نہیں ٹھہر سکتی تمہارا حامی اور مددگار ہوں۔پس جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کریم کے اس ارشاد کے مطابق اللہ کی ولایت حاصل کرنے کی کوشش کریں جس نے الکتاب یعنی قرآن کریم کو ایک کامیاب ہدایت کے طور پر اُتارا ہے۔اس کو صحیح معنی میں اپنا آقا بنا ئیں یعنی اس کی نگاہ میں بھی وہ اس کے عبد بن جائیں اور وہ ان کا آقا ہو اور یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے (جیسا کہ اس مختصر سی آیت میں بڑی وضاحت سے بتایا گیا ہے ) کہ الکتاب پر پوری طرح عمل کریں اور ایک کامل اور مکمل کتاب سے وہی فائدہ اُٹھا سکتا ہے جو کامل اطاعت کے ساتھ اور پوری مستعدی کے ساتھ اس کی بتائی ہوئی راہوں پر چلتا ہے۔جو شخص اطاعت میں کامل نہیں جو اپنے مجاہدہ میں ناقص ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت اس رنگ میں تو حاصل نہیں کر سکتا جس رنگ میں وہ شخص حاصل کرتا ہے یا وہ جماعت۔حاصل کرتی ہے جو اپنی اطاعت میں کامل ہو اور جو اپنے مجاہدہ میں کوئی خامی اور نقص نہیں رکھتی۔پس اللہ تعالیٰ ولی تو ہے لیکن وہ ولی اس کا بنتا ہے جس نے اس کی کامل کتاب پر عمل کیا۔جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے غیروں کی گالیاں سنیں اور انہیں برداشت کیا۔جس نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لئے غیروں کے ظلم سہے اور اُف نہ کی اور ظلم کے مقابلہ میں ظالمانہ راہوں کو اختیار نہیں کیا بلکہ یہ سمجھا کہ ظلم کو روکنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بند بنایا ہے۔ظلم اس بند سے ٹکرائے گا اور واپس چلا جائے گا۔میں ظلم کو مکان اور زمان کے لحاظ سے آگے نہیں بڑھنے دوں گا سارے ظلم اپنے پر سہہ لوں گا اور دوسروں کو ظالمانہ سازشوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کروں گا۔میں ظلم کے مقابلہ میں ظلم نہیں کروں گا بلکہ میں ظلم کے مقابلہ میں محبت اور پیار اور ہمدردی اور غمخواری اور حسن سلوک اور عمل صالح اور قولِ سدید دکھاؤں گا اس لئے کہ میرا رب مجھ سے خوش ہو جائے اور مجھے اپنی پناہ میں لے لے اور حقیقی معنی میں وہ مجھے اپنا عبد اور غلام بنا لے اور سچے طور پر وہ میرا آقا بن جائے۔وہ میرا حامی اور مددگار بن جائے اور میرے کاموں کی ذمہ داری اُٹھا لے تب میں دشمن کے ہر شر اور ہر منصوبہ اور ہر سازش اور ہر وار سے محفوظ ہو جاؤں گا۔اس