خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 492 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 492

خطبات ناصر جلد دوم ۴۹۲ خطبہ جمعہ ۷ رفروری ۱۹۶۹ء اپنے خاندان پر اور اپنے جتھے پر بھروسہ کر رہا ہوتا ہے۔ہزار بت ہیں جن پر وہ بھروسہ کرتا ہے۔ہزار بت ہیں جن کی وہ پرستش کرتا ہے اور ظلم کے مقابلہ میں ظالمانہ تدبیر کے نتیجہ میں ظلم کے تسلسل کو جاری کرتا اور اپنی طرف سے دوام بخشنے کی کوشش کرتا ہے۔وہ ظلم کو مٹانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اس کولمبا کرنے ، اس کو قائم کرنے اور اس کو دائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ بت پرست یا کم علم یا جاہل یا اپنے نفسوں پر قابو نہ پانے والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے قہر کی جہنم میں پڑنے والے ہیں۔خواہ بظاہر ایک ظالم اور دوسرا مظلوم ہی کیوں نظر نہ آئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہت سے قاتل اور مقتول ہر دو خدا کے غضب اور قہر کی جہنم میں پڑتے ہیں اس لئے کہ بظاہر جو مظلوم نظر آتا ہے وہ مظلوم اس لئے بنا کہ اس کی ظالمانہ تدبیریں اتفاقاً نا کام ہو گئیں اور دوسرے ظالم (جو اس کے مقابل پر تھا ) کی ظالمانہ تدبیریں اتفاقاً کامیاب ہو گئیں۔بے شک دنیا کی نگاہ بظاہر مظلوم کو مظلوم سمجھتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہ اسے ایسا ہی ظالم سمجھتی ہے جیسا کہ اس شخص کو ظالم مجھتی ہے جس کی ظالمانہ تد بیر کا میاب ނ ہو گئی۔اسی لئے کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو غضب کی نگاہ سے اور دوسرے کو پیار کی نگاہ۔نہیں دیکھتا بلکہ ہر دو کو ان کی نیت اور کوشش کی وجہ سے غضب کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ ہر دو ظلم کرنے پر تلے ہوئے تھے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ ایک ان میں سے کامیاب ہوا اور دوسرا نا کام ہوا۔بہر حال ہر دو کی نیت اور کوشش یہ تھی کہ وہ دوسرے پر ظلم کریں۔غرض ایک تو وہ مظلوم ہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مظلوم ہونے کے باوجود ظالم ٹھہرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آتا ہے اور اس کی رحمت، اس کی مدد اور نصرت سے محروم ہوتا ہے لیکن کچھ اور مظلوم بھی ہمیں دنیا میں نظر آتے ہیں اور وہ مظلوم وہ ہیں کہ جب کوئی شخص انہیں گالی دیتا ہے تو وہ مقابلہ میں گالی نہیں دیتے جب ان پر کوئی شخص افتر ا کرتا ہے تو وہ مقابلہ پر افتر انہیں کرتے جب ان پر کوئی شخص تہمت باندھتا ہے تو وہ تہمت باندھنے والے پر تہمت نہیں باندھتے۔جب انہیں قتل کرنے کے منصوبے کئے جاتے ہیں تو وہ اپنے دفاع کی احتیاطی تدابیر تو کرتے ہیں لیکن اپنے دشمن کو قتل کرنے کی سازشیں نہیں کرتے۔جب ان کے پیاروں کو برا بھلا کہا جاتا ہے تو