خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 463
خطبات ناصر جلد دوم ۴۶۳ خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۶۹ء میں فرماتا ہے اِنَّا اَنْزَلْنَهُ قُرُ إِنَّا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ - (يوسف : ٣) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ قرآن کریم کو نازل کرنے اور ایک ایسی کتاب بنانے میں جو اپنے مضامین کو کھول کر بیان کرتی ہے ایک حکمت یہ ہے کہ انسان اپنی عقل سے صحیح کام لے سکے یعنی عقل میں جو فی نفسہ ایک بنیادی خامی ہے کہ آسمانی نور کے بغیر اندھیروں میں بھٹکتی رہتی ہے اس خامی کو قرآن کریم دور کرے۔جس طرح ہماری آنکھ باوجود تمام صلاحیتوں کے اور دیکھنے کی سب قو تیں رکھنے کے اپنے اندر یہ نقص بھی رکھتی ہے کہ وہ خود دیکھنے کے قابل ہے ہی نہیں۔جب تک بیرونی روشنی اسے میسر نہ ہو۔ہر شخص جانتا ہے کہ ہماری آنکھ دیکھتی ہے لیکن وہ اندھیروں میں نہیں دیکھتی۔ایسے وقت میں جب رات ہو اور بادل چھائے ہوئے ہوں تو ہاتھ کو ہاتھ سوجھائی نہیں دیتا۔آنکھ کے قریب ترین ناک ہے اندھیرے میں وہ اسے بھی نہیں دیکھ سکتی۔انگلی اس کے قریب لے آؤ تو اس اندھیرے میں وہ اسے بھی نہیں دیکھ سکتی۔غرض باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کی سب صلاحیتیں اس میں رکھی ہیں اسے ایک قید میں بھی جکڑا ہے اور فرمایا ہے کہ سورج کی روشنی کے بغیر یا بیرونی روشنی کے بغیر تمہاری قو تیں ظاہر نہیں ہوں گی۔اس قید میں مقید کر کے اللہ تعالیٰ نے ساری قو تیں اسے عطا کر دیں۔اسی طرح عقل صحیح کام نہیں دے سکتی۔وہ اس وقت تک اندھیروں میں بھٹکتی رہتی ہے جب تک کہ آسمانی نور اور روشنی اسے عطا نہ ہو۔سورۃ یوسف کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عقل کے استعمال کے سب سے روشن سامان قرآن کریم کے ذریعہ نازل کر دیئے گئے ہیں۔اگر بنی نوع انسان نے اپنی عقلوں سے صحیح فائدہ اُٹھانا ہو بہترین فائدہ اُٹھانا ہو تو ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ عقل کے لئے قرآن کریم کے انوار مہیا کریں۔تب ان کی عقلیں منور ہو کر صحیح طور پر کام کرسکیں گی۔یہ صحیح ہے کہ دنیا میں دنیوی طور پر ایک حد تک عقل کام کر رہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعوی قرآن کریم میں کیا ہے اس پر اس وجہ سے کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا اس لئے کہ قرآن کریم ہی کے کچھ حصے پہلے انبیاء کو دیئے گئے تھے۔ان حصوں نے انسانی عقل میں ایک جلا پیدا کی یہ جلا