خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 456
خطبات ناصر جلد دوم ۴۵۶ خطبہ جمعہ ۳/ جنوری ۱۹۶۹ء مسلمانوں کے دلوں کو مضبوطی کے ساتھ آپس میں باندھ دیا ہے اور اس رنگ میں باندھا ہے کہ اگر زمین کی ساری دولت اور زمین کے سارے اموال اس غرض کے لئے خرچ کر دیے جائیں تب بھی اس کے نتیجہ میں وہ اُلفت پیدا نہیں ہو سکتی تھی جو جماعت مومنین کے دلوں میں پیدا کر دی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ اس لئے کیا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں غالب کرے گا اور چونکہ وہ حکیم ہے اس نے اپنی حکمت کا ملہ سے جہاں اور بہت سے سامان اس مقصد کے حصول کے لئے پیدا کئے ایک سامان یہ بھی پیدا کیا کہ اس نے مومنوں کے دلوں کو بڑی مضبوطی کے ساتھ اخوت اور محبت کے رشتہ میں باندھ دیا اور ایسا انعام کیا کہ آدمی جب سوچتا ہے تو شرم سے آنکھیں جھک جاتی ہیں اور وہ یہ کہ اس آیت میں ان مومنوں کی جنہیں اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے نہ کہ ان کی کسی خوبی کے نتیجہ میں اُلفت اور محبت کے اس رشتہ میں اس مضبوطی کے ساتھ باندھ دیا ہے۔یہ تعریف کی ہے کہ آیدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ یعنی تیری تائید اپنی مدد اور مومنوں سے کی تو اپنی نصرت اور مومنوں کو بریکٹ کر دیا ایک جگہ جمع کر دیا۔یہ کتنا بڑا انعام ہے کہ جو لوگ اپنے نفوس کو اور اپنی جانوں کو خدا کے حضور پیش کر دیتے اور اس کی منشا کے مطابق اور اس کے ارادہ کے پورا کرنے کے لئے ایک جان ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اپنی نصرت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔نصرت اور مومنوں کو ایک جگہ اکٹھا کر دیتا ہے اس سے بڑھ کر کسی انسان کو خدا تعالیٰ سے اور کیا انعام مل سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے جن کی خاطر اس عالمین کو پیدا کیا گیا تھا خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ میں نے اپنی نصرت اور ان مومنوں کے ساتھ تیری مدد کی۔جماعت مومنین کو خدا تعالیٰ نے کتنا بڑا انعام دیا ہے کتنار تبہ ان کا بیان کیا ہے۔انہوں نے جو کچھ پایا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی پایا لیکن آپ کے طفیل مومنوں نے یہ کتنا بڑا انعام پایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور مومنوں کو ایک جگہ اکٹھا کر دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ایک بڑا انعام ہے اس کو ضائع نہ کر دینا۔فرمایا :۔وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءَ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَاصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُم