خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 452
خطبات ناصر جلد دوم ۴۵۲ خطبہ جمعہ ۳/ جنوری ۱۹۶۹ء کے بغیر اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے قرب اور اس کی رضا کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے وہ ہر وقت اور ہر آن اُسوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اور اتباع کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے ہدایت کے نتیجہ کے نیک ہونے کے بہترین کامیابیوں کے، رضا کی راہوں کو پالینے کے، اس کی رضا کو حاصل کر لینے کے سامان پیدا کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں مزید نیکیوں کی توفیق بھی بخشتا ہے کیونکہ ہدایت کے معنی میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے اسے مزید بڑی نیکیوں کی توفیق وہ عطا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک مومن جب اپنی زندگی میں قرب کے بعض مقام حاصل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مزید قرب کی راہیں اُسے دکھا دی جاتی ہیں پھر وہ مزید ترقیات کرتا ہے وَالهُم تَقُوهُمْ اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اپنے مقام قرب و ہدایت کے مطابق وہ معزز اور مکرم بن جاتا ہے کیونکہ قرآن کریم نے فرمایا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ انْقُكُم - (الحجرات: ۱۴) اللہ تعالیٰ ان کی ان کے مناسب حال ان کی استعداد کے مطابق اور اپنی استعداد کو جس حد تک اُنہوں نے خدا کی راہ میں خرچ کیا اس کے مطابق ، ان کا تقویٰ اپنی نگاہ میں ، ان کی عزت انہیں عطا کر دیتا ہے۔اس آیہ کریمہ میں جو بہت سی باتیں بیان ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مومن کسی مقام پر ٹھہرتا نہیں ہے اس کی زندگی کا ہر لمحہ اس کو مزید رفعتوں کی طرف لے جاتا ہے اگر وہ حقیقی اور مخلص مومن ہو اور اس کی زندگی کا ہر نیا سال اسے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب کر دیتا اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اسے زیادہ معزز بنا دیتا ہے۔پس ہر نیا سال جو ہماری زندگیوں میں آتا ہے وہ ہم پر پہلے سے زیادہ ذمہ داریاں بھی ڈال رہا ہوتا ہے اور پہلے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہماری عزت کے سامان بھی پیدا کر رہا ہوتا ہے اور مومن بنده مخلص اللہ کے اور زیادہ قریب ہو جاتا ہے تو میری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان معنی میں جو قرآن کریم نے ہمیں بتائے ہیں، ہمارا یہ سال جو ہم پر چڑھا ہے پہلے سے زیادہ برکتوں والا سال ہو۔اس میں ہم اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقرب کو پہلے سے زیادہ پانے والے ہوں اور اس کی محبت جو ہمارے دلوں میں ہے وہ پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر جائے اور بہتر ثواب اس محبت کا اپنے رب کی طرف سے ہمیں ملے۔پس اس معنی