خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 440
خطبات ناصر جلد دوم ۴۴۰ خطبه جمعه ۲۰ /دسمبر ۱۹۶۸ء دس گیارہ بجے گھر میں واپس آتے تھے۔وہ فضا ہی ایسی تھی اور ساروں میں ہی خدمت کا یہ جذبہ تھا کوئی بھی اس جذبہ سے خالی نہیں تھا۔مجھے یاد ہے کہ بعض دفعہ ماموں جان (حضرت میر محمد اسحاق صاحب ) کہتے تھے کہ اب تم تھک گئے ہو گے کھانے کا وقت بھی ہو گیا ہے اب تم جاؤ لیکن ہمارا گھر جانے کو دل نہیں چاہتا تھا بس یہ ہوتا تھا کہ دفتر میں بیٹھے ہیں اور اپنی عمر کے لحاظ سے جو کام ملتا ہے وہ کر رہے ہیں۔خدمت کا یہ جذبہ اس قدر تھا کہ آپ میں سے اکثر کو ( بہتوں کو نہیں ) یاد ہوگا کہ ایک دفعہ جلسہ گاہ چھوٹی اور تنگ ہو گئی تھی اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ شدید ناراض ہوئے تھے لوگ جلسہ گاہ میں سمانہیں سکے تھے قادیان میں جلسہ گاہ کے چاروں طرف گیلریاں بنی ہوتی تھیں ان پر لوگ بیٹھتے تھے اینٹوں کی سیڑھیاں سی بنا کر ان پر لکڑی کی شہتیریاں رکھی جاتی تھیں بہر حال اس سال جلسہ گاہ چھوٹی ہو گئی تھی اور حضرت مصلح موعود" بہت ناراض ہوئے تمام کارکن بڑے شرمندہ پریشان اور تکلیف میں تھے اس وقت مجھے خیال آیا کہ اگر ہم ہمت کریں تو اس جلسہ گاہ کو راتوں رات بڑھا سکتے ہیں لیکن میری عمر بہت چھوٹی تھی اس لئے میں نے خیال کیا کہ میری اس رائے میں کوئی وزن نہیں ہوگا ہمارے ماموں سید محمود اللہ شاہ صاحب بھی دفتر میں کام کرتے تھے میں نے انہیں کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم ہمت کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم رات رات میں جلسہ گاہ کو بڑھا دیں گے آپ ماموں جان ( حضرت میر محمد اسحاق صاحب افسر جلسہ سالانہ ) کے سامنے یہ تجویز پیش کریں۔وہ کہنے لگے یہ خیال تمہیں آیا ہے اس لئے تم ہی یہ بات پیش کرو مجھے یاد ہے کہ میری طبیعت میں یہ احساس تھا کہ چھوٹی عمر کی وجہ سے میری رائے کا وزن نہیں ہوگا لیکن یہ کام کرنا ضرور چاہیے ماموں جان سید محمود اللہ شاہ صاحب کو خیال تھا کہ چونکہ یہ خیال مجھے نہیں آیا اس کو آیا ہے اس لئے اس کا کریڈٹ میں کیوں لوں لیکن میں نے کہا میں نے یہ بات پیش نہیں کرنی آپ ہی کریں اور ضرور کریں میں نے کچھ لا ڈ اور پیار سے ان کو منا لیا چنانچہ انہوں نے یہ تجویز پیش کی حضرت ماموں جان ( حضرت میر محمد اسحاق صاحب ) نے دوستوں کو مشورہ کے لئے جمع کیا اور بالآخر یہ رائے پاس ہو گئی اور سارا دن کام کرنے کے بعد سینکڑوں رضا کاروں نے ساری رات کام کیا ریتی چھلہ سے شہتیریاں اٹھا کر جلسہ گاہ میں لے گئے جو ہمارے کالج کی