خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 429 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 429

خطبات ناصر جلد دوم ۴۲۹ خطبه جمعه ۱۳ ردسمبر ۱۹۶۸ء اس کے مطابق جزا نہیں ملے گی ، اس دنیا میں ہی تم اللہ تعالیٰ کے پیار اور اس کی محبت کے جلوے نہیں دیکھو گے بلکہ اُس دنیا میں بھی اپنے اس روحانی ارتقا کے نتیجہ میں زیادہ سے زیادہ خدا کی محبت کے جلوؤں کے حق دار قرار دیئے جاؤ گے ، تمہارے اعمال نامہ میں یہ چیزیں ساتھ ہی ساتھ لکھی جائیں گی۔قرآن کریم نے ایک فرقان یعنی امتیازی مقام مسلمان کو لَیلَةُ الْقَدْرِ میں دیا ہے اور اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں اس کو تلاش کرو سارے بزرگ اس کے متعلق کہتے آئے ہیں ہماری جماعت کے خلفاء بھی جماعت کو غلط خیالات سے بچانے کے لئے اس کے متعلق بار بار توجہ دلاتے رہے ہیں میں بھی آج دوستوں کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ رمضان کے آخری عشرہ میں بعض ایسی گھڑیاں ہیں کہ سارا سال انسان جو بھی گناہ کرتارہے ان میں ان کی معافی مل جاتی ہے ایک چور مثلاً یہ سمجھے گا کہ سارا سال چوری کرو، لوگوں کو لوٹو ، حرام کھاؤ ، بس اس گھڑی میں جا کر معافی مانگ لو، جمعۃ الوداع میں دعا کر لو یا لیلتہ القدر ( ظاہری شکل جو لوگوں نے بنائی ہوئی ہے اس کے مطابق رمضان کی ستائیسویں رات کو) کو بیدار رہ کر دعا کر لو یا رمضان کے آخری عشرہ کی دس راتیں جاگ لو تو سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔لَيْلَةُ القَدر تو تقدیر کی رات ہے اس دن اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میرا بندہ اس نور کے نتیجہ میں جو اس کے ساتھ تھا اور اس کے اعمال نامہ میں اس کا اندراج ہوتا چلا گیا تھا اپنی زندگی کا ایک باب ختم کر چکا ہے۔اب جیسا کہ امتحان میں ہر پرچہ کے نمبر ہوتے ہیں اس باب کے اس کو نمبر مل جاتے ہیں اور وہی اس کی لیلتہ القدر ہے اگر وہ فیل ہو گیا اگر اس کے لئے سارا سال ہی نور نہیں رہا اگر اس نور میں اس نے ترقی نہیں کی اگر اس نے خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو تلاش کرنے میں شستی اور غفلت سے کام لیا اگر اس کا اعمال نامہ خالی کا خالی پڑا ہے تو اس کے لئے ایک معنی میں لیلۃ القدر تو ہو گی مگر اس لیلتہ القدر میں یا جمعتہ الوداع میں یہ لکھا جائے گا کہ اس بندہ کو خدا تعالیٰ کا نور حاصل کرنے کے مواقع دیئے گئے مگر اس نے ان سے فائدہ نہیں اُٹھایا اس لئے