خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 32
خطبات ناصر جلد دوم ۳۲ خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۶۸ء کی زندگی کا مقصد ہی یہ ہے کہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کیا جائے اور سب سے بڑا حملہ عیسائیت کے محاذ سے ہو رہا ہے ہمیں اللہ تعالیٰ نے باوجود انتہائی کمزور ہونے کے، باوجود انتہائی غریب ہونے کے باوجود انتہائی بے کس ہونے کے باوجود انتہائی طور پر سیاسی اقتدار سے محروم ہونے کے یہ توفیق عطا کی اپنے فضل سے کہ ہم نے ایک بہت بڑا ریلا عیسائیت کا بیسویں صدی کے شروع میں روک دیا لیکن ہمارا کام ابھی ختم نہیں ہوا اور نہ وہ وقت آیا ہے کہ ہم سمجھیں کہ ہمیں اپنی قربانیوں کی رفتار کو اب تیز کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہم کامیاب ہو گئے ہیں یا یہ کہ کامیابی ہمارے سامنے کھڑی ہے عنقریب ہم کامیاب ہو جائیں گے ابھی وہ وقت نہیں آیا اس کے لئے بہت زیادہ اور انتہائی قربانیاں ہمیں دینی پڑیں گی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ، اسلام کے اللہ کے لئے ، جب دلوں کے جیتنے کا سوال ہو تو نصف یا چوتھائی دل جیتنے کا سوال نہیں ہوتا کہ دل آدھے تو شیطان کے رہیں اور نصف خدا کے لئے ہو جائیں سارا ہی دل جیتنا ہے اور سارے ہی دل کو اللہ تعالیٰ کے قدموں میں لا ڈالنا ہے عیسائیت کی طرح ہم یہ تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ اسلام کے اندر مداہنہ کرتے ہوئے کچھ نرمی کر دیں پورے کا پورا اسلام انہیں قبول کرنا ہوگا انشاء اللہ اور پورے کے پورے دل اور روح کے ساتھ اور پورے ذہن کے ساتھ ان کو اپنے اللہ کے حضور جھکنا پڑے گا۔یہ ہماری زندگی ، ہمارے قیام کا مقصد ہے جس کے لئے انتہائی قربانیاں ہمیں کرنی پڑیں گی۔اللہ اس کی توفیق عطا کرے۔تیسرا ایک اور محاذ ہے جس کا ذکر شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور پھر مختلف صورتوں میں کافی لمبی بحث بھی اس مسئلہ پر قرآن کریم نے کی ہے اور وہ ہے نفاق کا محاذ ، سورہ بقرہ کے شروع میں ہی نفاق کے متعلق جب بحث ہوئی ہے تو بہت سی آیتوں میں زیادہ تفصیل سے بات کی گئی ہے کیونکہ نفاق ایک ایسی بیماری ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو سزا ملتی ہے اتنی بڑی سزا کسی اور گناہ کے نتیجہ میں نہیں ملتی۔قرآن کریم نے کہا ہے۔اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (النِّسَاء : ۱۴۶) یعنی جو سز ا خدا کے حضور منافق کے لئے مقدر ہے وہ مشرک کے لئے بھی مقدر نہیں ، کافر کے