خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 421 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 421

خطبات ناصر جلد دوم ۴۲۱ خطبه جمعه ۶ ؍ دسمبر ۱۹۶۸ء بھی انسان کو ضرورت پڑتی ہے یعنی ایسے مامور اور صلح اور علماء ربانی جو خدا تعالیٰ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کے طفیل علوم قرآنی حاصل کر کے انہیں دوسروں تک پہنچاتے ہیں ان علوم کو ایسے لوگ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے علوم کا ایک خزانہ قرآن کریم سے نکال کر دنیا کے سامنے رکھا ہے لیکن ابھی ایک چھوٹی سی جماعت ہے جو ان علوم کو سمجھنے کے قابل ہے بعض دفعہ انسان کا دماغ یہ دیکھ کر چکرا جاتا ہے کہ اتنی حکمت کی باتیں ہیں غیر ان کو سمجھتے کیوں نہیں۔ان علوم سے قرآن کریم کی شان بلند ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض اور آپ کی برکتیں سامنے آتی ہیں غرض انمول جواہر اور ہیرے ہیں جو آپ کی کتب میں موجود ہیں لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ کتنے ہیں جو انہیں سمجھ سکیں۔غرض کم سے کم مقام دوسروں کے بتائے ہوئے ہدایت کے دلائل اور حکمت کو سمجھنے کا ہے اور بڑے سے بڑا اور بلند تر مقام وہ خارق عادت مقام ہے کہ جس کے ساتھ کوئی اور مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان دو مقامات کے درمیان بے شمار مقامات ہیں جو ہم حاصل کر سکتے ہیں اور ان سے آگے ترقی کر سکتے ہیں آج ہم نے ایک مقصد کو حاصل کیا تو کل دوسرے مقام کو حاصل کر لیں گے غرض اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں بیان کیا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں تمہارے لئے ایک موقع عطا کیا گیا ہے کہ تم اپنے نفس کو جذبات اور خواہشات کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کی عادت ڈالو اور تکالیف برداشت کرنے کا اپنے جسموں کو عادی بناؤ۔اللہ تعالیٰ ہر چیز کی قربانی ہم سے چاہتا ہے اسلَمتُ لِرَبِّ العلمین کے بعد تو در حقیقت انسان کا کچھ اپنا رہتا ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہیں ایک مہینہ ایسا عطا کیا ہے کہ جس میں میں نے کہا ہے کہ تم میری خاطر بھو کے رہو جس میں میں نے کہا ہے کہ تم میری خاطر نیند کم کر لوجس میں میں نے کہا ہے کہ تم میری خاطر اپنا بہت کچھ چھوڑ دو تم اپنی خواہشات کو چھوڑ وہ تم نیکیاں کرو، اپنے اموال میں سے اور اپنے اوقات میں سے کچھ میری راہ میں دو تم میرے قریب تر آنے کی کوشش کرو تا کہ میرے ساتھ تمہارا اس قسم کا تعلق پیدا ہو جائے کہ تم نہ صرف یہ کہ دوسری باتیں سمجھنے لگ جاؤ جو