خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 375
خطبات ناصر جلد دوم ۳۷۵ خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء انہیں پانچ سات آدمی ایسے نظر آئیں جن کے کپڑے ٹھیک نہیں تو وہ ان سے کہیں کہ آپ یہ دھوتی لے لیں اور باندھ لیں اور کپڑے اتار کر ہمیں دے دیں ہمارے پانچ سات رضا کار ہیں وہ آپ کو آپ کے کپڑے دھو دیں گے وہ ایک دفعہ ایسا کریں گے یا دو دفعہ کریں گے تو ان لوگوں کو خیال آئے گا کہ یہ دوست کیوں ہمارے کپڑے دھو ئیں ہم آپ ہی کیوں نہ دھولیں۔اصل بات یہ ہے کہ عزم ہونا چاہیے کہ یہ چیز یہاں نہ ہو۔یہ عزم ہونا چاہیے بڑوں میں بھی اور چھوٹوں میں بھی کہ ربوہ کے ماحول میں ناپا کی نظر نہیں آئے گی اور نہ ہم اپنے کانوں سے کوئی گندی اور نا پاک بات سنیں گے۔ہاں ایک بات رہ گئی ہے اور وہ یہ کہ بازاروں کی ناپا کی جو ہے وہ بھی دور ہونی چاہیے بعض دکاندار کھانے کی بعض ایسی چیزیں بیچتے ہیں جنہیں ( گو یہ بات پسند یدہ نہیں لیکن بعض دفعہ مجبوری ہوتی ہے ) کھانے والے ان کی دکانوں پر ہی کھاتے ہیں اور چھلکوں کو وہیں پھنک دیتے ہیں مثلاً خربوزوں کے موسم میں خربوزوں کے چھلکے بازار میں پڑے ہوتے ہیں اور مالٹے کے موسم میں مالٹوں کے چھلکے وہاں پڑے ہوتے ہیں مالٹا کا موسم اب آ گیا ہے اور جلسہ سالانہ بھی آرہا ہے اور اس موقع پر بڑی تعداد میں مالٹا یہاں استعمال ہوتا ہے اس لئے یہ انتظام ہونا چاہیے کہ زمین پر کوئی چھلکا پڑا ہوا نہ ہو دکاندار کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے خرچ پر دکان پر ایک ڈرم رکھے اور اس کے اندر سارے چھلکے پھینکے جائیں ورنہ آپ اس کو وہ چیز بیچنے کی اجازت نہ دیں۔بہر حال یہ عزم ہونا چاہیے کہ ہمارے ماحول میں گندگی نظر نہیں آئے گی اور یہ عزم ہونا چاہیے کہ ہمارے کان گندی باتوں کو نہیں سنیں گے اور یہ عزم ہونا چاہیے کہ ہم ان حقوق کی حفاظت کریں گے جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہیں اور ان حقوق کی بھی حفاظت کریں گے جو ہمارے بھائیوں کو خدا تعالیٰ نے دیئے ہیں اس کے نتیجہ میں غیر کی زمین میں اس کی مرضی کے بغیر کوئی مکان نہیں بنا سکتا کیونکہ اس سے مالک کی حق تلفی ہوتی ہے اور سارے ربوہ کی حق تلفی ہوتی ہے اگر سارا ر بوہ زمین کے اس ٹکڑے کا مالک ہے ہمارے بچوں کو کھیلنے کے لئے جگہ نہ ملے اور وہاں کھوکھے لگ جائیں تو یہ درست نہیں اس زمین پر ہمارے بچوں کا زیادہ حق ہے اس وقت میرے ذہن میں