خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 358 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 358

خطبات ناصر جلد دوم ۳۵۸ خطبه جمعه ۲۵ /اکتوبر ۱۹۶۸ء فَمِنْكُمْ مَنْ يَبْخَلُ لیکن ہوتا یہ ہے کہ تم میں سے بعض بخل کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جو شخص بخل کرتا ہے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتا اس کے بخل کے بدنتائج اس کو ہی بھگتنے پڑتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کے مال سے بعض دفعہ برکت چھین لیتا ہے مثلاً ایک شخص خدا کی راہ میں دینے سے گریز کرتا ہے اور بشاشت سے وہ قربانی نہیں دیتا تو مال تو اس کے پاس اس وقت تک ہی ہے جب تک اللہ تعالیٰ اس کے پاس اس مال کو رہنے دے بعض دفعہ اس کے گھر کو آگ لگ جاتی ہے اس کا دس پندرہ ہزار یا بیس تیس ہزار روپیہ کا کپڑا آرہا ہوتا ہے وہ کپڑا ٹرک سے چوری ہو جاتا ہے، وہ مال خرید نے جاتا ہے تو کوئی جیب کترا اس کی جیب سے رقم نکال کر لے جاتا ہے پھر وہ سوچتا ہوگا کہ کاش میں یہ مال خدا کی راہ میں پیش کر دیتا اور اگر انسان بخل سے کام نہ لے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت دیتا اور اسے بتاتا ہے کہ میں تمہارے مال کی حفاظت کر رہا ہوں ابھی پچھلی گرمیوں کی بات ہے ایک دوست مری کے قریب جہاں میں چند دن کے لئے گیا ہوا تھا ملنے کے لئے آئے وہ زمیندار ہیں ان سے باتیں ہوئیں انہوں نے دعا کے لئے کہا میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے تمہیں دولت دی ہے تم قرآن کریم کے تراجم کی اشاعت کے لئے کوئی غیر معمولی رقم دو تا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے مال میں اور بھی برکت دے تو وہ کہنے لگے کتنی ! میں نے کہا یہ میں نے نہیں بتا نا میں سمجھتا ہوں کہ اس سے تمہارے ثواب میں کمی آجائے گی تم اپنی بشاشت اور خوشی کے ساتھ جتنادینا چاہو دے دو چنانچہ انہوں نے اپنے ایک عزیز کو بہت سی رقم دی زیادہ تر رقم پانچ پانچ سوروپے کے نوٹوں پر مشتمل تھی تھوڑی سی رقم رو پید روپیہ پانچ پانچ روپے یا دس دس روپے کے نوٹوں کی شکل میں تھی اور اسے کہا کہ ربوہ جا کر پانچ سو روپیہ اشاعت تراجم قرآن کریم کے لئے حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں انہوں نے شائد کوئی زمین خریدی تھی اور وہاں ادا ئیگی کرنی تھی انہوں نے اپنے اس عزیز کو کہا کہ باقی رقم وہاں ادا کر دیں ان کا وہ عزیز جب میرے پاس آیا تو اس نے بتایا کہ دیکھیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے برکت کیسے حاصل ہوتی ہے میری جیب میں یہ رقم تھی مجھے یاد نہیں اس نے جیب کترا کہا یا چور کا نام لیا بہر حال اس نے بتایا کہ جس جگہ پانچ پانچ سونوٹوں پر مشتمل رقم پڑی تھی و ہیں وہ رقم بھی تھی جو رو پید رو پیہ پانچ پانچ دس دس روپیہ