خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 357
خطبات ناصر جلد دوم ۳۵۷ خطبه جمعه ۲۵ /اکتوبر ۱۹۶۸ء سَبِيلِ اللهِ (محمد: ۳۹) سنو تم وہ لوگ ہو جن کو اس لئے بلایا جاتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے رستہ میں خرچ کرو یعنی اس لئے خرچ کرو کہ ان راہوں کو کشادہ ، فراخ اور کھلا رکھو جو اللہ کی طرف لے جانے والی ہیں ادیان باطلہ نے ، اندرونی کمزوریوں نے ، نفاق نے اور عملی مستیوں نے ان شاہراہوں کو تنگ کر دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہیں بعض جگہ تو رستے ہی غائب ہو گئے ہیں جیسا کہ دیہات میں ہم جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ جہاں پٹواری کے نقشہ میں ہیں فٹ سڑک ہوتی ہے وہاں لوگوں کے آہستہ آہستہ سڑک کو کاٹ کر اپنے کھیتوں میں ملانے کے نتیجہ میں چارفٹ یا پانچ فٹ سڑک رہ گئی ہے۔اسی طرح جو راستے اللہ تعالیٰ نے قائم کئے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والے ہیں انسان اپنی شستی اور غفلت کے نتیجہ میں ، انسان اپنی جہالت کے نتیجہ میں، انسان اپنی نفس پرستی کے نتیجہ میں ، انسان شیطانی آواز کی طرف متوجہ ہونے کے نتیجہ میں، ان را ہوں کو تنگ کر دیتا ہے پھر وہ تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے میں یہ تنگی کیسے برداشت کروں تنگی تو اس نے خود پیدا کی ہوتی ہے ان رستوں کو اس نے خود تنگ کیا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں خرچ کے لئے اس لئے بلایا جاتا ہے کہ تم ان رستوں کو فراخ اور کشادہ رکھو تا تم بھی بشاشت سے ان کے اوپر چلتے چلے جاؤ اور جو باہر سے آکر اسلام میں داخل ہونے والے ہیں ان کے دلوں میں بھی کوئی تنگی پیدا نہ ہو ان کی تربیت کر دی جائے اور بتا دیا جائے کہ یہ وہ راستہ ہے جو خدا تک لے جاتا ہے یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان خدا کی محبت کو حاصل کر لیتا ہے یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر خدا پانے کے بعد وہ چیز مل جاتی ہے جو انسان کی ترقی کا موجب اور اس کی لذت اور سرور کا باعث بنتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سنو تمہیں اس خرچ کے لئے اس لئے بلایا جا رہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی محبت کو دنیا میں قائم کرو اور انفاق فی سبیل اللہ کرو تمہیں صرف اتفاق “ کے لئے نہیں بلایا جا تاتم سے یہ بھی نہیں کہا جارہا کہ اپنے اموال لا ؤ اور جماعت کے سامنے پیش کرو بلکہ تمہیں کہا جا رہا ہے کہ اپنے اموال اس لئے لاؤ اور پیش کرو تا انسان اللہ تعالیٰ کے راستہ پر کامیابی کے ساتھ اور بشاشت کے ساتھ اور فراخی کے ساتھ چلنا شروع کر دے اور یہ را ہیں اسے اس کے محبوب رب تک پہنچا دیں۔