خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 353 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 353

خطبات ناصر جلد دوم ۳۵۳ خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۶۸ء لیکن میں نے سوچا اور غور کیا اور مجھے یہ اعلان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ انہیں روپے اوسط بہت کم ہے اور آئندہ سال جو یکم نومبر سے شروع ہورہا ہے جماعت کےانصار کو (دفتر دوم کی ذمہ داری آج میں انصار پر ڈالتا ہوں ) جماعتی نظام کی مدد کرتے ہوئے ( آزادانہ طور پر نہیں ) یہ کوشش کرنی چاہیے کہ دفتر دوم کے معیار کو بلند کریں اور اس کی اوسط انیس روپے سے بڑھا کر تیس روپے فی کس پر لے آئیں۔میں سمجھتا ہوں کہ چونسٹھ روپے فی کس اوسط پر لانا ابھی مشکل ہوگا اور یہ ایسا بار ہو گا جسے شاید ہم نبھا نہ سکیں لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر ہم کوشش کریں تو اس معیار کو دفتر اول کے چونسٹھ روپے فی کس کے مقابلہ میں انیس روپیہ سے بڑھا کر تیس روپیہ تک پہنچا سکتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ہمت اور توفیق اور مالوں میں برکت دے، اخلاص میں برکت دے تو یہی لوگ تیس سے چالیس اوسط نکالیں گے پھر پچاس اوسط نکالیں گے پھر ساٹھ اوسط نکالیں گے پھر ستر اوسط نکالیں گے اور دفتر اول سے بڑھ جائیں گے لیکن آئندہ سال کے لئے میں یہ اُمید رکھتا ہوں کہ جماعتیں اس طرف متوجہ ہوں گی اور میں حکم دیتا ہوں کہ انصارا اپنی تنظیم کے لحاظ سے جماعتوں کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں اور کوشش کریں کہ آئندہ سال دفتر دوم کے وعدوں اور ادائیگیوں کا معیارا نیس روپیہ فی کس اوسط سے بڑھ کر تیس روپیہ فی کس اوسط تک پہنچ جائے اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ سال رواں کے جو تین لاکھ چون ہزار روپے کے وعدے ہیں وہ پانچ لاکھ چالیس ہزار روپیہ تک پہنچ جائیں گے۔دفتر سوم کے متعلق میرا تأثر یہ ہے کہ اگر چہ ان کے حالات کے لحاظ سے چودہ اور انیس کا زیادہ فرق نہیں لیکن اس دفتر میں شامل ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہے یہ ابھی تک تین ہزار تک پہنچے ہیں لیکن ہم باور نہیں کر سکتے کہ ہماری آئندہ نسل زیادہ ہونے کی بجائے تعداد میں پہلوں سے کم ہو گئی ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو وعدہ دیا تھا کہ میں ان کے نفوس میں برکت ڈالوں گا اس وعدہ کو وہ سچے وعدوں والا پورا کر رہا ہے اور ہماری آئندہ نسل میں غیر معمولی برکت ڈال رہا ہے دفتر سوم والوں کا عمر کے لحاظ سے جو گروپ بنتا ہے یعنی اس عمر کے احمدی بیچے اور اس زمانہ میں نئے احمدی ہونے والے ان میں سے جس نسبت سے افراد کو تحریک جدید میں شامل ہونا چاہیے اس