خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 347 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 347

خطبات ناصر جلد دوم ۳۴۷ خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۶۸ء کرنی پڑے گی ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر ہی زندگی قائم رکھے اور ہماری حیات روحانی ہم سے نہ چھینے اور ہمیں تحریک جدید کے چندوں کو بڑھانے کے لئے کوشش کرنی چاہیے کیونکہ میں نے بتایا ہے کہ بہت جماعتوں نے ابھی وہ وعدے بھی پورے نہیں کئے جو انہوں نے مجموعی لحاظ سے پچھلے سال انصار اللہ کے اجتماع پر کئے تھے اور پھر ادائیگیاں بھی جلد تر پوری کرنی چاہئیں دفتر کا اندازہ ہے کہ اگر سال رواں کی آمد پچھلے سال کی آمد سے دس فیصدی نہ بڑھی تو ہماری بڑھتی ہوئی ضرورتیں پوری نہیں ہو سکیں گی۔دوسرے میں وقف جدید کے چندہ کی طرف جماعت کو تو جہ دلانا چاہتا ہوں وقف جدید کا سالِ رواں کا چندہ تو خدا تعالیٰ کے فضل سے پچھلے سال سے کچھ اچھا ہے اور اُمید ہے کہ وہ سال کے آخر تک پورا ہو جائے گا سالِ رواں کا بجٹ آمد ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار روپیہ تھا اس میں سے ایک لاکھ دس ہزار روپیہ ۱/۸ خاء تک وصول ہو چکے تھے گذشتہ جمعہ میرا خیال تھا کہ خطبہ جمعہ میں اس چندہ کے متعلق تحریک کروں لیکن میں بیمار ہو گیا اور جمعہ میں نہ آسکا بہر حال ۸ را خاء تک ایک لاکھ دس ہزار روپیہ وصول ہو چکا تھا اور اس عرصہ میں اور وصولی بھی ہوگی اور اُمید ہے ساری رقم وصول ہو جائے گی انشاء اللہ۔لیکن جنہوں نے وعدے لکھوائے ہیں وہ اپنے وعدے پورے کریں اگر سارے وعدے پورے ہو جائیں بجٹ سے کہیں زیادہ وصول ہو جائے گا۔اطفال الاحمدیہ کا جو پچاس ہزار چندہ تھا اس میں سے صرف گیارہ ہزار روپیہ وصول ہوا ہے میری یہ خواہش بھی ہے اور میں دعا بھی کرتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان، بچے اور چھوٹے بچے جنہیں میں نے اس میں شامل کیا ہوا ہے وقف جدید کا سارا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا ئیں اور میرے نزدیک ایسا ممکن ہے لیکن ان کے والدین اور سر پرست اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں رکھتے یا انہیں ذمہ داری کا اتنا احساس نہیں جتنا ہونا چاہیے انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ دو چیزوں میں سے کون سی چیز پسند کریں گے۔ایک یہ کہ ان کے بچے بچپن کی عمر سے ہی بخل کی عادتوں سے چھٹکارا حاصل کر کے اس دنیا میں اور اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وراث ہوتے چلے جائیں یا وہ یہ پسند کریں گے کہ جہنم کے اندر ان بچوں کی گردنوں میں وہ طوق ہو جس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں کیا گیا ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے باپ یقیناً پہلی بات کو پسند کریں گے لیکن