خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 346
خطبات ناصر جلد دوم ۳۴۶ خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۶۸ء ضرورتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔جب یہ کام شروع ہوا تھا تو سارا مالی بوجھ ہندوستان (اس وقت صح ملک نہیں ہوئی تھی ) کی جماعتوں پر تھا پھر بیرونی جماعتیں بڑھیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بھی اخلاص اور ایثار کا جذبہ پیدا کیا اور اس وقت وہ ( غیر ممالک کے احمدی) پاکستان کے کل چندہ تحریک جدید سے آٹھ گنا زیادہ چندہ ادا کر رہے ہیں گویا پاکستان کی جماعتیں اخراجات ( جو بیرونی ملک میں ہورہے ہیں ) کا آٹھواں حصہ بلکہ اس سے بھی کم (شائد نواں حصہ ) ادا کر رہی ہیں پھر اس رقم میں سے بھی کچھ رقم باہر نہیں جاسکتی کیونکہ اس وقت فارن ایکسچینج پر پابندی لگی ہوئی ہے۔پھر یہاں کے اخراجات بھی ہیں مثلاً مبلغوں کی تربیت ہے۔مبلغ پیدا کرنے۔یہاں کے کارکنوں کی تنخواہوں وغیرہ اور خط و کتابت پر بہت سے اخراجات یہاں کرنے پڑتے ہیں۔غرض ہمارا چندہ تحریک جدید کے کل چندہ کا کوئی آٹھواں یا نواں حصہ بنتا ہے اگر ہم اس کی ادائیگی میں بھی شستی کریں تو ہم سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو کیسے پورا کریں گے حالات بدل رہے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ ہماری ضرورتیں بھی بڑھ رہی ہیں مثلاً آپ دیکھیں ایک ملک میں آپ نے کام کیا وہاں عیسائیت بڑے زوروں پر تھی اور وہ اُمید رکھتی تھی کہ عنقریب وہ سارا ملک عیسائی ہو جائے گا پھر ہمارے مبلغ خدا کی توفیق سے وہاں پہنچے اور خدا کی توفیق سے ہی ان کے کاموں میں برکت پیدا ہوئی اور آج وہاں کے حالات بدلے ہوئے ہیں اور اس قدر بدلے ہوئے ہیں کہ ایک ملک سے ( بہت سے خطوط آتے رہتے ہیں۔میں ایک مثال دے رہا ہوں ) مجھے مطالبہ آیا کہ یہاں کے حالات کے لحاظ سے آپ فورانو اور مبلغ ہمارے ہاں بھجوادیں یہ افریقہ کا ایک ملک ہے اور لکھنے والے بھی افریقن احمدی ہیں غرض دنیا کے حالات بالکل بدل رہے ہیں اور جب حالات بدلے ہیں تو ہماری ضرورتیں بھی بدلیں گی مثلاً ایک ملک میں ہمارا مبلغ گیا اس نے کام کی ابتدا کی اور اس وقت وہ کام تھوڑا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت ڈالی اور وہ پھیلا اور اب ہم الْحَمْدُ لِلَّهِ کہتے کہتے تھکتے ہیں اور اسی کا وہ سزاوار ہے اور جب ہمارا کام پھیلا اور بڑھا تو ہمیں اور زیادہ روپیہ کی ضرورت ہوئی لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ ہم تو یہ ذمہ داریاں نبھانے کے لئے تیار نہیں تو یہ کئے کرائے پر پانی پھرنے والی بات ہے اسی لئے خدائے قادر وتوانا نے کہا کہ کام تو نہیں رکے گا لیکن پھر مجھے خلق جدید