خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 345 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 345

خطبات ناصر جلد دوم ۳۴۵ خطبه جمعه ۱۸ /اکتوبر ۱۹۶۸ء یہ کہنا پڑے گا کہ اے خدا! سب کچھ تو نے ہی ہمیں دیا ہے ہم سے جتنا تو چاہتا ہے لے لے ہم جانتے ہیں کہ زمین و آسمان کی میراث تیری ہی ہے سب کچھ تیرا ہے۔تو ہمارا امتحان لیتا ہے آزماتا ہے اور تو ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم ان چیزوں کو جو تیرے فضل نے ہمیں دی تھیں تیرے حضور ساری (اگر ساری کی ساری دینے کا حکم ہو ) یا کچھ (اگر کچھ دینے کا حکم ہو ) پیش کر دیں۔سو ہم یہ چیزیں اس یقین پر اور اس دعا کے ساتھ پیش کر رہے ہیں کہ تو ہم پر رحم کرے اور اپنی دینی اور دنیوی نعمتوں سے ہمیں نوازے اور اس دنیا میں بھی تیری رضا کی نظر ہم پر رہے اور اس دنیا میں بھی ہم تیری رضا حاصل کرنے والے ہوں۔اس وقت میں احباب کو دو چندوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں ایک تو چندہ تحریک جدید ہے اور دوسرا چندہ وقف جدید - تحریک جدید کی آمد اب تک جو ہوئی ہے وہ تسلی بخش نہیں گو وہ ہے کافی (جماعت بڑی قربانی کرنے والی ہے ) لیکن بعض احباب جماعت تو پچست ہوتے ہیں مگر مقامی طور پر نظام جماعت سُست ہوتا ہے اور اس طرح کاغذوں میں کمی نظر آجاتی ہے ہماری دو جماعتیں ہیں جن کا چندہ زیادہ ہوتا ہے اور ان کے تحریک جدید کے وعدے بھی زیادہ ہوتے ہیں وہ دو جماعتیں ربوہ اور کراچی ہیں ربوہ ابھی تک اس وعدے سے پیچھے ہے جو اس نے پچھلے سال انصار اللہ کے اجتماع کے موقع پر کیا تھا اسی طرح کراچی کی جماعت بھی ابھی اس وعدہ سے پیچھے ہے (وعدوں کے لحاظ سے ادا ئیگی کے لحاظ سے نہیں ) جو مجموعی طور پر کراچی کی طرف سے پچھلے سال انصار اللہ کے اجتماع کے موقع پر ہوا تھا کراچی کی جماعت نے مجموعی وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم احباب جماعت میں تحریک کر کے ایک لاکھ ایک ہزار روپیہ تحریک جدید کی مد میں ادا کریں گے اس وعدہ میں ابھی سات آٹھ ہزار روپیہ کی کمی ہے ربوہ کا وعدہ ستر ہزار روپیہ تھا اس وعدہ کے لحاظ سے ربوہ بھی سات ہزار پیچھے ہے یعنی ابھی تک ۶۳ ہزار روپیہ کے وعدے ہوئے ہیں۔غرض وعدے بھی بڑھانے ہیں اور ادائیگیاں بھی تیز کرنی ہیں تا کہ جو کام خدا کے فضل سے کامیابی کے ساتھ تحریک جدید کی قربانیوں کے نتیجہ میں ساری دنیا میں ہورہا ہے وہ جاری رہ سکے اور ترقی کر سکے تحریک جدید کے کام نے آہستہ آہستہ ترقی کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری