خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 338 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 338

خطبات ناصر جلد دوم ۳۳۸ خطبه جمعه ۱۸ /اکتوبر ۱۹۶۸ء دنیوی فوائد پر منتج ہو گا اور اسی میں ان کی بھلائی ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کریں گے تو انہیں نقصان ہو گا ان کا خدا کی راہ میں اموال خرچ کرنا ان کے لئے خیر کا موجب نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ خیال درست نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ (شَدُّ لَّهُمْ ) ایسا کرنا ان کے لئے بہتر نہیں بلکہ ان کے لئے ہلاکت اور برائی کا باعث بنے گا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو وہ مول لینے والے ہوں گے اس بخل کے دو قسم کے نتائج نکلیں گے ایک اس دنیا میں اور ایک اس دنیا میں جو شخص بخل سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ نہیں کرتا وہ اس دنیا میں جہنم میں پھینکا جائے گا اور وہاں اسے ایک نشان دیا جائے گا جس سے سارے جہنمی سمجھ لیں گے کہ وہ اس لئے اس جہنم میں آیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ نہیں کیا کرتا تھا سیطوفون ان کے گلے میں ایک طوق ڈالا جائے گا اور وہ طوق تمثیلی زبان میں ان اموال کا ہو گا جو اس دنیا میں خدا کی راہ میں) خرچ نہ کر کے وہ بچایا کرتے تھے اور اس طوق کی وجہ سے ہر وہ شخص جو جہنم میں پھینکا جائے گا جان لے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کہا گیا تھا کہ اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے اور خدا کو راضی کرنے کے لئے اپنے اموال اس کے سامنے پیش کرو مگر انہوں نے اس کی آواز نہ سنی اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک نہ کہا اور دنیا کے اموال کو اُخروی بھلائی پر ترجیح دی اور نتیجہ اس کا یہ ہے کہ آج یہ جہنم میں ہیں اور ذلت کا عذاب انہیں دیا جا رہا ہے جہنم کے عذاب میں تو سارے شریک ہیں لیکن یہ طوق بتا رہا ہوگا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اموال کی تو حفاظت کیا کرتے تھے لیکن اپنی جانوں کی حفاظت نہیں کیا کرتے تھے اپنی ارواح کی حفاظت نہیں کیا کرتے تھے۔ایک نتیجہ اس بخل کا اس دنیا میں نکلے گا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِلَّهِ مِیرَاثُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی میراث ہے اور میراث کے ایک معنی لغت نے یہ بھی کئے ہیں کہ ایسی چیز جو بغیر کسی تکلیف کے حاصل ہو جائے پس اللہ جو خالق ہے، ربّ ہے اور جس کی قدرت میں اور طاقت میں ہر چیز ہے جس کے کُن کہنے سے ساری خلق معرضِ وجود میں آئی ہے کسی چیز کے پیدا کرنے یا اس کے حاصل کرنے میں اسے کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی اور جب