خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 337 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 337

خطبات ناصر جلد دوم ۳۳۷ خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۶۸ء ہر چیز اللہ کی ہی میراث اور ملکیت ہے اس لئے اس کی راہ میں خرچ کرنا سراسر خیر و برکت کا موجب ہے فرمائی۔b خطبه جمعه فرموده ۱۸ ۱۷اکتوبر ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا أَنهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيْطَوَقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ وَلِلَّهِ مِيرَاتُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ - لَقَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ - (ال عمران : ۱۸۱، ۱۸۲) يَايُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ - إِنْ يَشَأْيُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ - وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللهِ بِعَزِيزِ۔(فاطر ۱۶ تا ۱۸) اس کے بعد فرمایا :۔اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں سب کچھ دیتا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی اس دین میں سے مالی قربانیاں پیش نہیں کرتے بلکہ بخل سے کام لیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا اپنے اموال کو خدا کی راہ میں خرچ نہ کرنا