خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 332 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 332

خطبات ناصر جلد دوم ۳۳۲ خطبه جمعه ۴/اکتوبر ۱۹۶۸ء انسان کے لئے مسخر کیا گیا ہے اور کام پر لگایا گیا ہے یہ تمام اشیا، یہ تمام چیزیں ( چھوٹی ہوں یا بڑی ) جن کی حقیقت کو ایک حد تک ہم نے سمجھا اور ان کا علم حاصل کیا ہے یا ان کی وہ طاقتیں اور صفات جو ان میں پوشیدہ ہیں اور ہم پر ظاہر نہیں ہوئیں انسان کی خدمت پر لگائی گئی ہیں۔پس اصل ذات اللہ ہی کی ہے جو انسان کی ربوبیت تو کرنا چاہتا ہے اور اس نے یہ حکم بھی جاری کیا ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر کسی شخص کی ترقی (روحانی و جسمانی ) میں اس کی پیدا کردہ کوئی چیز روک نہ بنے لیکن بہت سے ایسے بدقسمت انسان بھی ہوتے ہیں جو اپنے ہی کئے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کو ناراض کر لیتے ہیں اور ہر وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ نے اس کی خدمت پر لگایا ہوتا ہے وہی اس ایڈا کے در پے ہو جاتی ہے وہ اسے دکھ پہنچانے لگتی ہے اسے زندگی اور حیات سے دور کر دیتی ہے اور اسے نور سے کھینچ کر اندھیروں میں لے جاتی ہے اسے خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں داخل نہیں ہونے دیتی بلکہ شیطان کے پیچھے اسے لگا دیتی ہے اور جہنم کی طرف اس کا منہ کر دیتی ہے جسمانی دکھ یا تکالیف ہوں یا روحانی طور پر نا کا میاں اور نا مرادیاں ہوں یہ سب اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور منشا اور اس کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ہی ہوتے ہیں۔پس ہمیں حکم ہے کہ اپنے رب کی طرف جھکو اس سے یہ التجا کرو کہ تیری ربوبیت تامہ سے ہم کامل فیض حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تیری حفاظت میں نہ آجا ئیں جب تک کہ تیری نصرت اور تیری مدد ہمارے شامل حال نہ رہے جب تک کہ تو ہمیں اپنی رحمت سے نہ نو از تار ہے۔حفاظت کے معنی ہیں ضائع ہونے سے بچانا اور اللہ تعالی بڑی وضاحت سے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہر چیز کو ضائع ہونے سے بچانے کا کام خود اللہ تعالیٰ کرتا ہے اور اپنی ربوبیت تامہ کو انسان کے لئے کمال تک پہنچانے کی خاطر اسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے اور جب تک وہ خدا تعالیٰ کی اس حفاظت میں نہ آجائے اس وقت تک ہر وقت ضائع ہونے کا خوف رہتا ہے مثلاً ہمارا صدقہ و خیرات ہے اگر انسان اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہو تو مَنَّا وَ أَذَّی سے بچتے ہوئے صدقہ و خیرات کی حفاظت ہو جاتی ہے اگر ہماری نمازیں ریا سے پاک نہ ہوں تو ان کی حفاظت نہیں ہوسکتی جب تک انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ توفیق نہ ملے کہ وہ ریا اور نمائش سے بچتا ر ہے