خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 313 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 313

خطبات ناصر جلد دوم ۳۱۳ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۶۸ء ہے جسے کیڑے مکوڑے یا درندے تو بڑے شوق سے کھا سکتے ہیں لیکن فرشتے ان کے لئے دعا ئیں نہیں کر سکتے لیکن جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اس وجود میں قائم رہے اور یہ وجود آپ سے قطع تعلق نہ کرے بلکہ آپ میں فنا ہو اور ہمیشہ اس مقام کو اختیار کئے رکھنے کی کوشش کرتا رہے اس وقت تک وہ زندگی قائم ہے، وہ مقام قرب حاصل ہے ، وہ دعائیں قبول ہیں جو یہ جماعت اپنے رب کے حضور پیش کر رہی ہے۔غرض اس دعا کو جو جماعت مومنین کر رہی ہے ہم اس زاویہ نگاہ سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ایک ایسی جماعت ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور دوسری طرف اس جماعت کو کہا کہ آپ پر درود بھیجو اور آپ کے لئے دعائیں کرو اور خود اعلان کیا کہ میری رحمتیں ہر آن اس میرے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہو رہی ہیں دوسری طرف فرشتوں کو کہا کہ وہ لوگ جو محبت کی وجہ سے اور ایثار کے ساتھ اور اس مقدس اور پاک وجود کے مقام کو سمجھتے ہوئے اس میں گم ہو جائیں اس کا رنگ اپنے پر چڑھالیں اس کے نور سے حصہ لیں اے فرشتو! تم ان کے لئے بھی دعائیں کرو کیونکہ اب ان کا وجود آپ سے علیحدہ نہیں اور دراصل یہ حکم پہلے حکم کے اندر ہی تھا کیونکہ جب فرشتوں کو یہ کہا گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور آپ کے لئے دعائیں کرو اور جب یہ لوگ آپ کے وجود ہی کا حصہ بن گئے تو اس حکم کے اندر ہی آگئے جس کو نمایاں کر کے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دوسری جگہ بیان کر دیا ہے اور جس کے متعلق ایک آیت میں نے خطبہ کے شروع میں بھی پڑھی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو آپ کے لئے دعائیں کرو ، جماعت مومنین کو کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور دعائیں کرو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ اس جماعت مومنین کے لئے دعائیں کرو اور فرشتوں کو کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جماعت مومنین کے لئے دعاؤں میں مشغول ہیں تو تم کیوں خاموش ہو تم بھی اس جماعت مومنین کے لئے دعائیں کرو غرض اُمت مسلمہ ایک ایسا وجود ہے جو ایک شانِ محبوبیت اور شانِ عبودیت کے ساتھ دنیا میں ظاہر ہوا اور اس نے ان نہروں اور