خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 302
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۶۸ء لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا - (النِّساء : ۶۵) الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا أَمَنَا فَاغْفِرُ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ - (ال عمران : ۱۷) وَالَّذِينَ جَاءُوْ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ - (الحشر:اا) اس کے بعد فرمایا :۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مقام تو مقام جمع یا مقام وحدت تامہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات میں کامل طور پر فنا ہو جانے کی وجہ سے اس قادر و توانا نے اپنی رحمت کا ملہ سے آپ کو اپنے وجود کا اکمل مظہر بنایا اور آپ صفات الہیہ کے مظہر اتم ٹھہرے اس ارفع مقام قرب میں کوئی فرد بشر بھی آپ کا شریک نہیں۔اس مقام قرب دنو کے مقابلہ میں آپ کا ایک مقام مقام تدٹی ہے یعنی آپ نے بفضل ایزدی عبودیت کے انتہائی نقطہ تک اپنے تئیں پہنچایا اور بشریت کے جو پاک لوازم ہیں یعنی بنی نوع کی ہمدردی اور ان سے محبت ان لوازم سے پورا حصہ لیا اور اسی کامل تکثی کے نتیجہ میں بنی نوع کے لئے آپ کا مل شفیع ٹھہرے اور جس نے بھی آپ کی محبت میں گم ہو کر آپ کا رنگ خود پر چڑھایا۔اپنی اپنی استعداد کے مطابق مقامات قُرب کو اس نے پایا کیونکہ طبائع مختلفہ اپنی استعداد کے مطابق آپ کے فیوض روحانی سے حصہ پاتی ہیں آپ میں اور خلق میں اس مقام تدثی کی وجہ سے کوئی حجاب باقی نہیں رہا اس اعلیٰ اور ارفع کمال عبودیت میں مخلوق میں سے کوئی بھی حقیقی طور پر تو آپ کا شریک نہیں لیکن اتباع اور پیروی کے نتیجہ میں اور فنافی الرسول ہو جانے کے طفیل بنی نوع انسان ظلی طور پر آپ کے شریک ہو سکتے ہیں کیونکہ آپ بنی نوع انسان کے لئے کامل اُسوہ ہیں، آپ کے رنگ میں رنگین ہو جانے والے، آپ کی محبت میں فنا ہو کر ایک نئی اور حقیقی زندگی پانے والے آپ کے وجود کا ہی حصہ بن جاتے ہیں اس طرح پر جماعت مومنین معرض وجود میں آئی کیونکہ اس جماعت کے لئے فنا فی الرسول ہونا ضروری ہے اس لئے یہ جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں گم اور آپ کے وجود ہی کا حصہ ہے کوئی علاوہ اور