خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 298
خطبات ناصر جلد دوم ۲۹۸ خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۶۸ء آتے ، گالی کا جواب گالی سے نہیں دیتے فساد پیدا کرنے کی جب کوشش کی جاتی ہے تو یہ اس فساد کی آگ پر تیل نہیں پھینکتے بلکہ اپنے آنسوؤں کا پانی اس کے اوپر پھینکتے ہیں اور اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔غرض ایذائیں دیئے جانے کا بھی وعدہ ہے اور جان و مال کے ذریعہ امتحان لینے کا بھی وعدہ ہے خوف کے سامان پیدا کرنے کا بھی ہم سے وعدہ ہے بھو کے رکھے جانے کا بھی ہم سے وعدہ ہے کوششوں کے بے نتیجہ نکلنے کا بھی ہم سے وعدہ ہے اور میں ان تمام دکھوں اور تکلیفوں اور اذیتوں کو وعدہ اس لئے کہتا ہوں کہ محض اتنا نہیں کہا گیا کہ تمہارے لئے خوف کے حالات پیدا کئے جائیں گے محض یہ نہیں کہا گیا کہ تمہارے مالوں کو غصب کرنے کے منصوبے بنائے جائیں گے اور اس طرح تمہیں ابتلا پیش آئیں گے اور تمہاری جان کو نقصان پہنچایا جائے گا یا یہ کوشش کی جائے گی کہ تمہارے اعمال کا وہ نتیجہ نکلے جو عام قانون کے مطابق نکلنا چاہیے محض یہ نہیں کہا گیا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ہم ایسے سامان تو پیدا کریں گے لیکن ان سامانوں کو اس لئے پیدا کریں گے کہ تم ہماری نگاہ میں بھی اور دنیا کی نگاہ میں بھی ان رضا کی جنتوں کے اہل قرار دیئے جاؤ جن کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اس لئے جب ایذا ہمیں پہنچتی ہے جب اموال اور نفوس میں ابتلا کے سامان ہم دیکھتے ہیں جب خوف کے حالات پیدا ہوتے ہیں اور جب ہماری مساعی مخالف کی کوششوں کی وجہ سے بے نتیجہ ثابت ہو جاتی ہیں تو ہمارے دل خدا کی حمد سے بھر جاتے ہیں کہ اس کی رضا کی جنتوں میں ہم داخل ہو جائیں گے اور پھر ہمیں دعا سکھائی گئی ہے کہ جب اس قسم کے حالات پیدا ہوں تو تم میری طرف رجوع کرو اور مجھ سے قوت اور مدد مانگو اور بنیادی طور پر مجھ سے یہ طلب کرو کہ اے خدا! ان حالات میں وہ جو تیرے بندوں کا دشمن ہے خاموش نہیں رہے گا وہ چاہے گا کہ ہم ان ابتلاؤں کے اوقات میں صبر اور دعا کے ذریعہ کامیاب نہ ہوں تیری رضا کی جنتیں ہمیں حاصل نہ ہوں وہ یہ پسند کرے گا کہ ہم اس کی طرف جھک جائیں اور تیرے قہر اور تیرے غضب کی دوزخ ہمارے مقدر میں ہو جائے ہم کمزور ہیں ہم تو انسان کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے اور تیری ہدایت کے مطابق کرنا بھی نہیں چاہتے ہم شیطانی وسوسوں کا دفاع محض اپنی طاقت اور قوت سے