خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 279 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 279

خطبات ناصر جلد دوم ۲۷۹ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء پیدا ہو جائے گا اس وقت آپ ذکر بھی کر سکتے ہیں ویسے ہنسی میں میں نصیحہ کہا کرتا ہوں میرے پاس وہ قلم ہے جو سیاہی چوستی ہے یہ دیکھو کیسی اچھی قلم ہے کہ نو دفعہ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ پڑھیں تو اس میں سیاہی بھر جاتی ہے اب یہ صرف توجہ ہے یہ حقیقت پہچانی چاہیے کہ ہر وہ لمحہ جو ہم اس کی یاد میں گزار سکتے ہیں وہ اس کی یاد میں گزارنا چاہیے یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے اپنی ہمیں اجازت دے دی دنیا کے کاموں کے لئے۔جب ایسے کام ہوں کہ تم اپنی زندگی کے لحات خدا کی یاد میں نہ گزار سکتے ہو تو ان کاموں میں اسے رہنے دو لیکن جب وہ کام شروع ہوتا ہے اس سے معا پہلے کا وقت خدا کی یاد میں گذرے اور جب وہ کام ختم ہوتا ہے اس کے معا بعد کا وقت خدا کی یاد میں گزرے گا تو تمہارے اس وقت کو بھی ہم یہی سمجھیں گے کہ جیسے ہماری یاد میں گذرا ہے۔بڑا احسان کرنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے ہمارا رب۔ایک اور ذمہ داری ایمان کی یہ بتائی کہ یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب: ۵۷) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرنے والا اس حقیقت اور یقین پر قائم ہوتا ہے کہ آپ نے جو بھی کیا اس کے ذریعہ سے ہم پر احسان کیا کیونکہ آپ نے جو بھی کیا جب ہم وہ کرتے ہیں تو خدا ہم پر راضی ہو جاتا ہے کتنا بڑا احسان ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ایک دروازہ ہمارے لئے کھول دیا تو اے ایمان والو! تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شکر گزار بندے بنے لگو آپ پر درود اور سلام بھیجتے رہو اس کے مقابلہ پر فرما یا لا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيطن (البقرة : ۲۰۹) جب تم خدا کا بندہ بنتے ہوئے ، اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ، خدا تعالیٰ کی عبودیت پر قائم ہو جاؤ گے اور ہر وقت اس کی عبادت اور اس کے ذکر میں مشغول ہو گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیج رہے ہو گے تو شیطان بہر حال تم سے خوش نہیں ہو گا اس واسطے وہ پوری کوشش کرے گا کہ تم بہک جاؤ اس لئے اے ایمان کا دعویٰ کرنے والو تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ شیطان کے قدم بقدم نہ چلو بلکہ جن راہوں کو شیطان خدا سے تمہیں دور لے جانے کے لئے اختیار کرتا ہے تم اس طرف ذرا بھی متوجہ نہ ہو بلکہ اپنے صراط مستقیم کو نہ چھوڑو۔