خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 15 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 15

خطبات ناصر جلد دوم ܙ خطبہ جمعہ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء (۴) ایک اور بات یہ ہے کہ عَلى سُرُرٍ متقبلين تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے یعنی دنیوی ترقیات یا روحانی ترقیات کے نتیجہ میں وہ یہ کوشش نہیں کریں گے کہ ایک دوسرے کو نیچا کر دکھا دیں۔گرانے کی کوشش نہیں کریں گے بلکہ وہ خوش ہوں گے اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لئے رحمت کا ، رضا کا، ایک تخت پیدا کیا ہے۔(۵) ایک اور علامت یہاں یہ بتائی گئی ہے کہ انہیں کوئی تھکان نہیں ہوگی یعنی قربانی کے میدان میں وہ جتنی قربانیاں دیتے چلے جائیں گے وہ کوئی تھکان محسوس نہیں کریں گے بلکہ لذت اور سرور محسوس کریں گے جو شخص سلسلہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قربانی نہیں دیتا یا قربانی دیتا ہے لیکن تھکاوٹ محسوس کرتا ہے اسے اپنی فکر کرنی چاہیے کیونکہ ابھی اس کے لئے اس دنیا میں جنت مقدر نہیں ہوئی۔(4) اور آخری علامت یہ بتائی کہ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِسُخْرَجِيْنَ۔وہ اس میں سے کبھی نکالے نہیں جائیں گے یعنی اس فرد واحد اس فرد بشر کے لئے لیلتہ القدر کا فیصلہ ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کر دے گا کہ اس شخص کو میں نے اپنے ابدی قرب اور ابدی رضا کے لئے چن لیا ہے اور جس شخص کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کر دیتا ہے۔شیطان کا کوئی حملہ اس پر کامیاب نہیں ہوا کرتا۔اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور اپنی رحمت سے ایسے لوگوں کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہے اور شیطان کا ہر وار نا کام کر دیتا ہے۔یعنی جس پر شیطان کا میاب وار کر دے اور اس کے دل میں وسوسہ ڈالے اور وہ دل وسوسہ سے متأثر ہو جائے اور امتحان میں پڑ جائے۔اسی طرح وہ شخص جسے خدا اور اس کے رسول کی خاطر قربانیاں دینے میں تھکاوٹ محسوس ہو۔اسی طرح وہ شخص جو دوسرے بھائی پر جو اللہ تعالیٰ کی حمتیں نازل ہو رہی ہوں ( دنیوی یا دینی ) انہیں دیکھ کے جلنے لگے اور حسد اختیار کرے اور اس کی یہ کیفیت نہ ہو کہ عَلى سُرُرٍ مُتَقبِلِينَ۔اسی طرح وہ شخص جو اخوت کا انتہائی جذبہ اپنے بھائیوں کے لئے اپنے دل میں نہیں پاتا۔اسی طرح وہ شخص جس کے دل میں دوسروں کے لئے کینہ پا یا جاتا ہے۔اسی طرح وہ شخص جو اپنے بھائیوں کے لئے سلامتی اور امن کی دعائیں نہیں کرتا وہ خطرے