خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 256 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 256

خطبات ناصر جلد دوم ۲۵۶ خطبه جمعه ۲۳ راگست ۱۹۶۸ء کامل محبت ، کامل فدائیت اور کامل ایثار کے نتیجہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے نور کو حاصل کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔”ہر ایک روشنی ہم نے رسول نبی امی کی پیروی سے پائی ہے اور جو شخص پیروی کرے گا وہ بھی پائے گا اور ایسی قبولیت اس کو ملے گی کہ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں رہے گی زندہ خدا جو لوگوں سے پوشیدہ ہے اس کا خدا ہوگا اور جھوٹے خدا سب اس کے پیروں کے نیچے کچلے اور روندے جائیں گے وہ ہر ایک جگہ مبارک ہوگا اور الہی قوتیں اس کے ساتھ ہوں گی“۔تو اگر کوئی شخص یہ خواہش رکھتا ہو کہ وہ اللہ کے نور سے حصہ لے جونور کہ اس دنیا کی نیک راہوں کی نشاندہی کرتا ہے اور دوسری زندگی میں بھی جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ کیسعی نُورُهُم يسعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ - (الحديد : ١٣ ) یہاں بھی وہ نور قرب کی راہوں کو منور کرتا اور اس کے نتیجہ میں شیطانی راہوں پر اندھیرا چھا جاتا ہے ہمیں ہر سیدھی راہ نظر آنے لگتی ہے یہ نور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ہم حاصل کر سکتے ہیں اسی واسطے ہر وہ شخص جس کے دل میں ایسی خواہش پیدا ہو اس کو اللہ تعالیٰ اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے ایک نمونہ ہیں اس اُسوہ کے مطابق تم اپنی زندگیوں کو ڈھالو تو اللہ تعالیٰ سے اس حسین اور عجیب اور روشن نور کو حاصل کر سکو گے جو انسان کو ہر قسم کی ہلاکت سے بچاتا ہے۔لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللہ کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ ہر وہ شخص جو اللہ کی امید رکھتا ہے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا چاہتا ہے اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے زندہ اور پاک تعلق پیدا کرنے کے لئے اس کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے اور اگر کوئی شخص اس جگہ نہ پہنچے جہاں سے یہ معرفت حاصل ہو سکتی ہے تو وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہے گا ضال ہو جائے گا ایسے شخص کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معرفت کا ایک خزانہ دے کر اس دنیا میں مبعوث کیا ہے اور آپ کی بعثت کے بعد کسی اور کے پاس یہ خزانہ تو کیا اس کا