خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 14 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 14

خطبات ناصر جلد دوم ۱۴ خطبه جمعه ۱۲ ؍ جنوری ۱۹۶۸ء ان آیات میں جو میں نے ابھی آپ دوستوں کے سامنے تلاوت کی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک وسیع مضمون بیان کیا ہے۔اس کا ایک حصہ یہ ہے کہ اس دنیا کی جنت جو اس دنیا کی جنت سے بہت مختلف ہے (اس میں شک نہیں ایک بڑا فرق تو یہ ہے کہ وہ جنت ایسی ہو گی جس میں سارے جنتی اکٹھے رہتے ہوں گے اور دوزخیوں کا اس جنت میں کوئی دخل نہیں لیکن اس دنیا میں جو جنت ہے ) اس میں کا فر اور مومن اس دنیا کے لحاظ سے اکٹھے رہتے نظر آتے ہیں۔پس ہر شخص کی اپنی ایک جنت ہے۔ایک ماحول ہے یا جماعت کا ایک ماحول ہے۔اس ماحول میں جنتیوں کی سی زندگی ایک احمدی گزارتا ہے یا جنتیوں کی سی زندگی گزارنے کی وہ کوشش کرتا ہے۔اس جنت کی بہت سی علامات ان آیات میں بتائی گئی ہیں:۔(۱) ایک تو یہ کہ امن میں اور سلامتی کے ساتھ وہ رہنے والے ہوں گے۔جس کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے لئے کثرت سے سلامتی سے دعائیں کر رہے ہوں گے۔اس کا ایک ظاہری طریق یہ بھی ہے سنتِ نبوی کے مطابق اور وہ یہ کہ جب بھی مسلمان مسلمان سے ملے۔السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه بلند آواز سے کہہ کے اس کے لئے سلامتی کی دعا مانگے۔اس کی بھی عادت ڈالنی چاہیے اس کے علاوہ بھی اپنی دعاؤں میں سب اُمتِ مسلمہ، سب جماعت احمدیہ کے لئے یہ دعائیں مانگتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سلامتی اور امن کی زندگی ہمیں بھی اور ہمارے بھائیوں کو بھی عطا کرے۔(۲) دوسری علامت یا دوسری بات جس کا اس جنت سے تعلق ہے وہ یہ ہے کہ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِل ان کے سینوں میں جو کینہ وغیرہ بھی ہو گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس جنت میں ہم اسے نکال دیں گے۔پس اگر دل کینہ اور بغض اور حسد سے پاک ہوں تو جنت ہے اور اگر نہیں تو وہ جنت نہیں۔(۳) اسی طرح تیسری بات یہاں یہ بتائی کہ وہ بھائی بھائی بن کر جنت میں رہیں گے اگر ہم احمدیت میں داخل ہونے کے باوجود یہ احساس نہیں رکھتے کہ ہم بھائی بھائی ہیں اور بھائیوں کی طرح ہم نے محبت سے زندگی گزارنی ہے تو پھر جو شخص ایسا ہے اس کے لئے اس دنیا میں جنت نہیں بنی۔