خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 12
خطبات ناصر جلد دوم ۱۲ خطبه جمعه ۵/جنوری ۱۹۶۸ء کر رہے ہیں بلکہ ہمیشہ ہی دل اس احساس سے پڑ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تو فیق دی ہے کہ وہ ہم پر احسان کر رہے ہیں ہم سے خدمت لے کر اور حقیقت بھی یہی ہے کس پر ہم احسان جتائیں! اس پر ! جس نے ہمیں پیدا کیا ہے! ہمارے لئے ہماری پیدائش سے بھی لاکھوں سال پہلے سے اپنی رحمتوں کے سامان پیدا کئے کیا ہم اپنے اللہ پر احسان رکھیں گے کیا ہم اللہ کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا آپ کے خلفاء پر احسان جتائیں گے !! احسان تو خدا کا ہے کہ وہ ہمارے لئے برکتوں کے حصول کے مواقع پیدا کرتا ہے۔پس اس خدمت کو معمولی خدمت نہ سمجھو بڑی برکتوں والی ہے یہ خدمت !!! ان چند دنوں کو خدا کے لئے چوبیس گھنٹے اگر آپ وقف کر دیں تو آپ اس سے مر نہیں جاتے نہ ایسے کمزور ہو جاتے ہیں کہ ہمیشہ کے لئے بیمار ہو جا ئیں کوئی مستقل بیماری یا نقص آپ کے اندر پیدا نہیں ہوتا۔تھوڑی سی تکلیف ہی ہے جو آپ نے برداشت کرنی ہے لیکن اس کے نتیجہ میں اس قدر رحمتیں ہیں جن کا آپ نے وارث بننا ہے کہ آپ کا دماغ یا کسی اور انسان کا دماغ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔پس ہمارے وہ بچے یا ہمارے وہ بھائی جو اس خدمت کی برکات کی اور اس خدمت کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی رحمتوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔انہیں میں متوجہ کرتا ہوں کہ وہ چوبیس گھنٹے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت میں گزار کے اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں اور اس کے ان گنت فضلوں کے وارث بنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھ اور توفیق دے اور ہمیں بھی اپنی ذمہ داریوں کے نبھانے کی وہ خود توفیق دیتا چلا جائے۔کیونکہ اس کی توفیق کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔روزنامه الفضل ربوه ۸ /جون ۱۹۶۸ ء صفحه ۲ تا ۶ )