خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 10 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 10

خطبات ناصر جلد دوم ا۔خطبہ جمعہ ۵/جنوری ۱۹۶۸ء انعام ہم حاصل کر سکیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَاللهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفُسِقِينَ (الصف: ۶) وہ لوگ جوان احکام میں سے جو میں نے قرآن کریم میں اور اسلامی تعلیم میں ان پر نازل کئے ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال نہیں رکھیں گے وہ ان انعامات کے وارث نہیں ہوں گے جو کامل طور پر ہدایت یافتہ لوگوں کو ملتے ہیں لا یهْدِی میں یہ بتایا ہے کہ ان کا انجام اس طرح بخیر نہیں ہو گا جس طرح ہدایت یافتہ کا انجام بخیر ہوا کرتا ہے اگر ہم بہترین انعامات کا وارث ہونا چاہتے ہیں۔اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ ہمیں ہدایت یافتہ پائے اور ہمارے گناہوں پر اپنی مغفرت کی چادر ڈال دے تو ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ جہاں تک ہماری طاقت اور استعداد میں ہو چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بھی بچنے کی کوشش کریں یعنی ہر بات جس سے اسلام ہمیں روکتا ہے خواہ وہ دنیا کی یا ہماری نظر میں کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو۔ہم اس سے بچیں اور ہر وہ حکم جس کے کرنے کی اللہ ہمیں ہدایت کرتا ہے ہم اس کے بجالانے میں ہر ممکن تدبیر کو اختیار کر میں اس کے بغیر ہم ہدایت یافتہ جماعت کے انعام نہیں پاسکتے۔پس یہ ایک بڑا ہی اہم موقع ہے بڑا ہی بابرکت موقع ہے رحمتوں کے حصول کا ایک عظیم موقع ہے جسے ہم اپنا جلسہ سالانہ کہتے ہیں اس موقع پر ان دنوں میں ان اوقات میں پوری کوشش کرنی چاہیے۔پوری توجہ کے ساتھ اور پوری تدبیر کے ساتھ اور ہر وقت کی دعاؤں کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرے کہ ہم سے چھوٹے سے چھوٹا گناہ بھی سرزد نہ ہو اور شیطان کا ہلکے سے ہلکا تیر بھی ہمارے جسموں اور ہماری روحوں میں پیوست نہ ہوتا کہ ہم اس کے غضب کے نیچے نہ آجائیں تا کہ ہم اس کی رحمتوں سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے والے ہوں۔ربوہ میں بسنے والوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ان دنوں میں صفائی کا خاص خیال رکھیں ربوہ کے ایک چھوٹے سے حصہ میں آج بھی وقار عمل منایا گیا ہے یعنی خدام الاحمدیہ کے انتظام کے ماتحت رضا کارانہ طور پر کچھ کام کیا گیا ہے جس کی تفصیل کا مجھے علم نہیں ہے میں اُمید رکھتا ہوں کہ انہوں نے صفائی پر زیادہ زور دیا ہوگا اور ان رخنوں کو بند کرنے پر زیادہ زور دیا ہو گا جس کے نتیجہ